مضامین بشیر (جلد 4) — Page 498
مضامین بشیر جلد چهارم 498 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ حکم دیا ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی کوئی منکر بات دیکھو جو دین یا اخلاق یا محبت الہی یا اکرام رسول یا آداب بزرگان کے خلاف ہو تو بڑی جرات کے ساتھ اس کا مقابلہ کرو۔بے شک آپ لوگوں کو لڑنے بھڑنے سے روکا گیا ہے مگر لڑ نا بھڑنا اور چیز ہے لیکن جرأت کے ساتھ بدی کا مقابلہ کرنا اور نیکی کو پھیلانا اور چیز ہے۔اور یہ بات صرف پختہ ایمان کے ذریعہ پیدا ہوسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔(محررہ 17 اپریل 1963ء) (روز نامہ الفضل 21 اپریل 1963ء) کتاب ” سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب کی ضبطی حکومت کا انتہائی غیر منصفانہ فیصلہ جیسا کہ احباب جماعت کو معلوم ہو چکا ہے حکومت مغربی پاکستان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ضبط کر لی ہے۔قطع نظر اس کے کہ وہ ہمارے نزدیک ایک مامور من اللہ کی کتاب ہے۔حکومت کا یہ فیصلہ کئی لحاظ سے انتہائی غیر منصفانہ ہے کیونکہ (1) دنیا جانتی ہے کہ یہ کتاب آج سے پینسٹھ سال قبل پہلی دفعہ شائع ہوئی تھی۔(2) اس کے بعد بھی وہ متفرق رسالوں میں کئی دفعہ چھپتی رہی اور اس کے متعد دایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔(3) یہ کتاب نہ صرف ابتدا بلکہ غالباً دوسری تیسری دفعہ بھی عیسائی حکومت کے زمانہ میں چھپی تھی۔(4) جیسا کہ اس کتاب کا نام ظاہر کرتا ہے۔یہ کتاب ایک عیسائی کے سوالوں کے جواب میں لکھی گئی تھی۔با وجود ان تمام باتوں کے یہ کتنی نا انصافی کی بات ہے کہ عیسائی حکومت نے تو اپنے سالہا سال کے دور میں اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔مگر پینسٹھ سال کے بعد آکر مسلمان حکومت نے اس پر ایکشن لینا ضروری خیال کیا۔جماعت کے دوستوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے ضروری قانونی کارروائی کی