مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 474 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 474

مضامین بشیر جلد چهارم 474 عجیب وغریب ہیں کہ جن کی کوئی حد ہے نہ حساب۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ لوگ اپنے مادی ماحول سے آگے نکل کر اپنی روحانیت کی آنکھیں کھولیں اور پھر وہ تماشہ دیکھیں جو ہزاروں نبیوں اور ہزاروں ولیوں کے زمانہ میں دنیا دیکھتی چلی آئی ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ۔بیا در بزمِ مستان تا به بینی عالمی دیگر بہشتے دیگر و ابلیس دیگر آدمی دیگر یعنی خدا کی محبت میں مخمور ہو کر اس کے عاشقوں کے زمرہ میں داخل ہو جاؤ پھر تمہیں اس مادی دنیا کے علاوہ بالکل اور دنیا نظر آئے گی جس کا بہشت بھی اور ہے اور ابلیس بھی اور ہے اور آدم بھی اور ہے۔20 دوسرے نیک لوگوں نے تو اپنی اپنی استعداد اور اپنی اپنی روحانی طاقت کے مطابق بہشت دیکھے ہوں گے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کا بہشت کلیۂ خدا کی ذاتِ والا صفات میں مرکوز تھا آپ خدا کے عشق میں اس قدر محو ور مخمور تھے کہ جزا اور سزا کے خیال سے اس طرح بالا ہو گئے تھے جس طرح کہ آسمان کا ایک بلند ستارہ زمین کی پستیوں سے بالا ہوتا ہے۔میں آپ کے اس بے مثال عشق کی چند مثالیں اپنی تقریر سیرۃ طیبہ میں بیان کر چکا ہوں جس میں محبت الہی اور عشق رسول کا مضمون میری تقریر کا مرکزی نقطہ تھا۔آپ کا نفس اس طرح نظر آتا تھا کہ گویا وہ ایک عمدہ اسفنج کا ٹکڑا ہے جس میں خدا کی محبت کے سواکسی اور کی محبت کے لئے جگہ باقی نہ تھی۔ایک جگہ آپ اللہ تعالے کے عشق میں متوالے ہو کر فرماتے ہیں کہ۔”ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے۔اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمے کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحه 21-22) دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں۔دوست غور سے سنیں کہ کس والہانہ انداز میں فرماتے ہیں کہ۔ابتلاء کے وقت ہمیں اندیشہ صرف اپنی جماعت کے بعض کمز ور لوگوں کا ہوتا ہے۔میرا تو یہ حال ہے کہ اگر مجھے صاف آواز آئے کہ تو مخذول ہے اور تیری کوئی مراد ہم پوری نہیں کریں گے تو مجھے خدا تعالیٰ کی قسم