مضامین بشیر (جلد 4) — Page 473
مضامین بشیر جلد چهارم 473 کے لئے بہت تھوڑ اسا پلاؤ پکایا جو صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ہی کافی ہو سکتا تھا مگر اس دن نواب محمد علی خان صاحب جو ہمارے والے مکان میں رہتے تھے وہ اور ان کی بیوی اور بچے وغیرہ سب ہمارے گھر آگئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ ان کو بھی کھانا کھلاؤ۔میں نے حضرت مسیح موعود سے کہا کہ چاول تو بالکل ہی تھوڑے ہیں کیونکہ میں نے یہ چاول صرف آپ کے لئے ہی تیار کروائے تھے۔اس پر حضرت مسیح موعود نے چاولوں کے پاس آکر ان پر دم کیا اور مجھ سے فرمایا کہ۔اب تم خدا کا نام لے کر ان چاولوں کو تقسیم کر دو“ حضرت اماں جان فرماتی تھیں کہ ان چاولوں میں ایسی فوق العادت برکت پیدا ہوئی کہ نواب صاحب کے سارے گھر والوں نے یہ چاول کھائے اور حضرت مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب کے گھروں میں بھی چاول بھجوائے گئے اور ان کے علاوہ کئی دوسرے لوگوں کو بھی دیئے گئے اور چونکہ وہ برکت والے چاول مشہور ہو گئے تھے اس لئے بہت سے لوگوں نے ہم سے آ آکر چاول مانگے اور ہم نے سب کو دیئے اور خدا کے فضل سے وہ سب کے لئے کافی ہو گئے (سیرت المہدی روایت نمبر 144) حضرت اماں جان فرماتی تھیں کہ اس قسم کے اور بھی بہت سے واقعات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں گزرے ہیں کہ خدا نے حضور کے دم کی برکت سے عین وقت پر جبکہ کوئی انتظام نظر نہیں آتا تھا تھوڑے سے کھانے کو زیادہ کر دیا۔دراصل چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تاکید فرماتے تھے کہ جو مہمان بھی آئے وہ کھانے سے محروم نہ رہے اور اکثر مہمان اچانک آ جاتے تھے اور قادیان اُن دنوں میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہوتا تھا جس میں کھانے کی چیزیں نہیں ملتی تھیں۔اس لئے بہر حال جس طرح بھی میسر ہوتا تھا سب کے لئے وقت بے وقت کھانے کا انتظام کیا جاتا تھا اور خدا کے فضل سے وہ کافی ہو جاتا تھا۔دنیا کے لوگ جو اپنے مادی قانون کے تصورات اور مادی مشاہدات سے گھرے ہوئے ہیں وہ شایدان باتوں کو نہ سمجھ سکیں کیونکہ وہ روحانی آنکھوں سے محروم ہیں مگر جن لوگوں نے خدا کو دیکھا اور پہچانا ہے اور اس کی وسیع قدرتوں کا مشاہدہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ حقیقتا خدا ہی دنیا کا واحد خالق و مالک ہے اور خدا ہی ہے جس نے اپنی ازلی حکمت کے ماتحت دنیا میں خیر وشر کی تقدیر جاری کر رکھی ہے اور وہی ہے جس نے زمین و آسمان کی چیزوں میں مختلف خواص ودیعت کئے ہیں۔اور پھر خدا اپنے بنائے ہوئے قانون کا غلام نہیں بلکہ جیسا کہ وہ قرآن میں خود فرماتا ہے وہ خاص حالات میں خاص ضروریات کے ماتحت اپنے قانون کو وقتی طور پر بدل بھی سکتا ہے اس لئے ایسے لوگ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں کہ خدا کی طاقتیں اتنی وسیع اور اتنی