مضامین بشیر (جلد 4) — Page 454
مضامین بشیر جلد چهارم 454 کا یہ لطیف دور ایک حد تک خلفاء کے سلسلہ میں بھی چلتا ہے چنانچہ حضرت ابوبکر جمالی شان رکھتے تھے مگر حضرت عمرؓ جلالی شان کے ساتھ ظاہر ہوئے۔اسی طرح سلسلہ احمدیہ کے پہلے خلیفہ حضرت مولوی نورالدین صاحب جمالی خلیفہ تھے مگر جیسا کہ مصلح موعود والی پیشگوئی میں مذکور ہے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ” جلال الہی کے ظہور کا موجب قرار دئیے گئے۔جلال اور جمال کے اس دور میں بڑی گہری حکمتیں ہیں جن کے بیان کرنے کی اس جگہ ضرورت نہیں۔بہر حال چونکہ حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ مسیح ناصری کی طرح جمالی شان کے مصلح تھے اس لئے آپ کے تمام کاموں میں جمالی شان کا غلبہ نظر آتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ شفقت و محبت اور پند و نصیحت اور عفو و کرم کے اس پیکر نے رسول پاک صلے اللہ علیہ وسلم کے احمد نام کی ظلیت میں جنم لے لیا ہے۔حضرت مسیح موعود نے دنیا میں شادی بھی کی اور خدا نے آپ کو اولاد سے بھی نوازا اور آپ کو مخلص دوست بھی عطا کئے گئے اور دشمنی کرنے والوں نے بھی اپنی دشمنی کو انتہا تک پہنچا دیا اور ہر رنگ میں آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور آپ کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی گئیں اور جھوٹے مقدمات کھڑے کئے گئے اور حکومت کو آپ کے متعلق بدظن کرنے کی تدبیریں بھی کی گئیں اور آپ کے ماننے والوں کو انتہائی تکالیف کا نشانہ بھی بنایا گیا۔مگر آپ نے نہ صرف اپنے عزیزوں اور دوستوں اور ہمسایوں کے لئے اور نہ صرف حکومت کے لئے جس کے آپ اسلامی تعلیم کے مطابق کامل طور پر وفادار تھے بلکہ اپنے جانی دشمنوں کے لئے بھی اپنی فطری رحمت کا ثبوت دیا اور اپنی جمالی شان کا ایسے رنگ میں مظاہرہ کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔8 میں نے اپنی گزشتہ سال کی تقریر میں بیان کیا تھا کہ کس طرح کابل کے سابق حکمران امیر حبیب اللہ خان نے اپنے ملک کے ایک بہت بڑے رئیس اور پاک فطرت نیک بزرگ کو جنہوں نے اس کی تاجپوشی کی رسم ادا کی تھی حضرت مسیح موعود کو قبول کرنے پر زمین میں گاڑ کر بڑی بے رحمی سے سنگسار کرا دیا تھا۔اور اس طرح عاشق مسیح کی روح آخر تک یہی پکارتی رہی کہ جس صداقت کو میں نے خدا کی طرف سے حق سمجھ کر پہچان لیا ہے اسے دنیا کی ادنی زندگی کی خاطر کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔جب صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید کے قتل کا حکم دینے والا امیر حبیب اللہ خان اس واقعہ کے بعد انگریزی حکومت کا مہمان بن کر ہندوستان آیا تو اخباروں میں یہ خبر چھپی کہ بعض اوقات امیر حبیب اللہ خان بوٹ پہنے ہوئے مسجد کے اندر چلا گیا اور اسی حالت میں نماز ادا کی۔اس پر بعض اخباروں میں اعتراض اٹھایا گیا کہ امیر کی یہ حرکت غیر اسلامی ہے اور اور