مضامین بشیر (جلد 4) — Page 455
مضامین بشیر جلد چهارم 455 آداب مسجد کے خلاف ہے۔اور کسی احمدی نے یہ خبر حضرت مسیح موعود کو بھی جاسنائی کہ امیر حبیب اللہ خاں نے مسجد کی ہتک کی ہے اور جوتے پہن کر اندر چلا گیا ہے اور جوتوں میں ہی نماز ادا کی ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود نے اعتراض کرنے والے کو فورا ٹوک کر فرمایا کہ۔اس معاملہ میں امیر حق پر تھا کیونکہ جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنا جائز ہے“ (اخبار بدر 11 اپریل 1907ء) سنانے والے نے تو یہ خبر اس لئے سنائی ہوگی کہ چونکہ امیر حبیب اللہ خان احمدیت کا دشمن ہے اور اس نے ایک برگزیدہ اور پاکباز احمدی بزرگ صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب کو محض احمدیت کی وجہ سے انتہائی ظلم کے طریق پر سنگسار کرا دیا ہے اس لئے غالباً حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی دشمنی اور عداوت کی وجہ سے اس کا ذکر آنے پر اس کے متعلق ناراضگی کا اظہار فرمائیں گے مگر اس پیکرِ انصاف وصداقت نے جو اپنے جانی دشمنوں کے لئے بھی حق و انصاف کا پیغام لے کر آیا تھا سنتے ہی فرمایا کہ۔یہ اعتراض غلط ہے اس میں امیر کی کوئی غلطی نہیں کیونکہ جوتے پہن کر مسجد میں جانا جائز ہے۔یہ اس وسیع رحمت کا ثبوت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاک دل میں دوستوں اور دشمنوں اور اپنوں اور بیگانوں اور چھوٹوں اور بڑوں سب کے لئے خالق فطرت کی طرف سے یکساں ودیعت کی گئی تھی۔9 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وسیع عضو ورحمت کا ایک اور دلچسپ واقعہ بھی مجھے اس جگہ یاد آ گیا۔شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جو حضرت مسیح موعود کے مشہور وقائع نگار تھے اپنی تصنیف ”حیات احمد میں بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جبکہ حضرت مسیح موعود لاہور میں قیام فرما تھے اور ایک مقامی مسجد میں فریضہ نماز ادا کر کے اپنی فرودگاہ کی طرف واپس تشریف لے جا رہے تھے کہ ایک قوی ہیکل شخص نے جو ان ایام میں مہدی ہونے کا مدعی تھا اور محمد رسول اللہ کی بجائے مہدی رسول اللہ کا کلمہ پڑھتا تھا پیچھے کی طرف سے آکر حضرت مسیح موعود پر اچانک حملہ کر دیا اور حضور کو زور کے ساتھ اٹھا کر زمین پر دے مارنے کی کوشش کی۔یہ بد بخت حضور کو گرا تو نہ سکا مگر میں نے دوسرے طریق سے سنا ہوا ہے کہ ) اُس کے اچانک حملہ سے حضور کچھ ڈگمگا گئے اور حضور کا عمامہ مبارک گرتے گرتے بچا۔اس پر سیالکوٹ کے ایک مخلص دوست سیدامیر علی شاہ صاحب نے فورا لپک کر اس شخص کو پکڑ لیا اور اسے دھکا دے کر الگ کرتے ہوئے ارادہ کیا کہ اسے اس گستاخی اور قانون شکنی اور مجرمانہ حملہ کی سزا دیں۔جب حضرت مسیح موعود نے دیکھا کہ سید امیرعلی شاہ صاحب اسے مارنے