مضامین بشیر (جلد 4) — Page 22
مضامین بشیر جلد چهارم 22 اور ایذاؤں کا مزا چکھا۔حتی اس قتل کے سازشی مقدمات میں سے بھی گزرنا پڑا۔بچوں اور عزیزوں اور دوستوں اور اپنے جاں شمار فدائیوں کی موت کے نظارے بھی دیکھے مگر کبھی آپ کی آنکھوں نے آپ کے قلبی جذبات کی غمازی نہیں کی۔لیکن علیحدگی میں اپنے آقا رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے متعلق (اور وفات بھی جس پر تیرہ سو سال گزر چکے تھے ) یہ محبت کا شعر یاد کرتے ہوئے آپ کی آنکھیں سیلاب کی طرح بہہ نکلیں۔اور آپ کی یہ قلبی حسرت چھلک کر باہر آ گئی کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا“ قادیان میں ایک صاحب محمد عبد اللہ ہوتے تھے جنہیں لوگ پروفیسر کہہ کر پکارتے تھے۔وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن بہت مخلص تھے اور چھوٹی عمر کے بچوں کو مختلف قسم کے نظاروں کی تصویر میں دکھا کر اپنا پیٹ پالا کرتے تھے۔مگر جوش اور غصے میں بعض اوقات اپنا توازن کھو بیٹھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں کسی نے بیان کیا کہ فلاں مخالف نے حضور کے متعلق فلاں جگہ بڑی سخت زبانی سے کام لیا ہے اور حضور کو گالیاں دی ہیں۔پروفیسر صاحب طیش میں آکر بولے کہ اگر میں ہوتا تو اس کا سر پھوڑ دیتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بے ساختہ فرمایا ”نہیں نہیں ایسا نہیں چاہئے۔ہماری تعلیم صبر اور نرمی کی ہے۔پروفیسر صاحب اس وقت غصے میں آپے سے باہر ہو رہے تھے۔جوش کے ساتھ بولے واہ صاحب واہ ! یہ کیا بات ہے۔آپ کے پیر (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو کوئی شخص بُرا بھلا کہے تو آپ فور مباہلہ کے ذریعہ اسے جہنم تک پہنچانے کو تیار ہو جاتے ہیں مگر ہمیں یہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص آپ کو ہمارے سامنے گالی دے تو ہم صبر کریں؟ پروفیسر صاحب کی یہ غلطی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بڑھ کر کس نے صبر کیا ہے اور کس نے کرنا ہے؟ مگر اس چھوٹے سے واقعہ میں عشق رسول اور غیرت ناموسِ رسول کی وہ جھلک نظر آتی ہے جس کی مثال کم ملے گی۔پنڈت لیکھرام کو کون نہیں جانتا۔وہ آریہ سماج کے بہت بڑے مذہبی لیڈر تھے اور اس کے ساتھ ہی اسلام کے بدترین دشمن بھی تھے۔جن کی زبان اسلام اور مقدس بانی اسلام کی مخالفت میں قینچی کی طرح چلتی اور چھری کی طرح کاٹتی تھی۔انہوں نے ساری عمر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابل پر کھڑے ہو کر اسلام اور مقدس بانی اسلام پر گندے سے گندے اعتراض کئے اور ہر دفعہ حضرت مسیح موعود نے ان کو ایسے دندان شکن جواب دئے کہ کوئی کیا دے گا۔مگر یہ صاحب رکنے والے نہیں تھے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پنڈت لیکھرام کا یہ مقابلہ حضرت مسیح موعود کے ایک مباہلہ پرختم ہوا۔جس کے نتیجہ میں پنڈت جی حضرت مسیح موعود کی دن دونی رات چوگنی ترقی دیکھتے ہوئے اور ہزاروں حسرتیں اپنے سینہ