مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 400 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 400

مضامین بشیر جلد چهارم 400 برکات اور آخر الشرائع قرآن مجید کے کمالات اور افادات کے ذکر کی ذیل میں اس قسم کا انگریزی فقرہ آتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس زمانہ میں رسول پاک کی شاگردی اور قرآن حکیم کی اتباع میں نور نبوت کی تازہ (Latest) جھلک بانی سلسلہ احمدیہ کے وجود میں نظر آتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ مولا نا عبدالماجد صاحب دریا بادی ایڈیٹر صدق جدید نے جن سے بہتر ذہنیت کی امید کی جاتی ہے اس فقرے کو دوسرا رنگ دے کر اپنے 5 را کتوبر کے پرچہ میں ماڈرن تبلیغ کے استہزائیہ عنوان کے ماتحت یہ ظاہر کرنا چاہا ہے کہ گویا نعوذ باللہ جماعت احمد یہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی بجائے اپنے سلسلہ کے بانی کو ” آخر الانبیاء یقین کرتی ہے۔مولا نا عبدالماجد صاحب ایک ثقہ بزرگ سمجھے جاتے ہیں اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی منفرد فقرہ کو لے کر نتیجہ نکالنے کی بجائے جماعت احمدیہ کے کثیر التعداد اور محکم حوالہ جات کی روشنی میں ہمارے خیالات کی ترجمانی فرمائیں گے۔جب سینکڑوں واضح حوالہ جات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ظاہر و عیاں ہے کہ ہم خدا کے فضل سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبین اور آخر الانبیاء یقین کرتے ہیں تو پھر کسی ضمنی اور ذو معنیین حوالہ سے یہ استدلال کرنا کہ نعوذ باللہ ہمارے نزدیک آخری نبی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ ہیں ایک صریح ظلم ہے۔پھر مولانا عبدالماجد صاحب نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اخبار گائیڈنس کے حوالہ میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے متعلق Last یعنی آخری کا لفظ نہیں ہے بلکہ Latest کا لفظ ہے جس کے معنی قریب ترین زمانہ میں ظاہر ہونے والے کے ہیں اور سیاق وسباق کے لحاظ سے ان دونوں لفظوں میں فرق بالکل واضح ہے۔یہ درست ہے اور ہم اس سے ہر گز انکار نہیں کر سکتے کہ ہم جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو خدا کا ایک نبی اور رسول یقین کرتے ہیں۔مگر ہم آپ کی نبوت کو آزاد اور مستقل نبوت قرار نہیں دیتے بلکہ اسے بروزی اور خلی اور تابع نبوت سمجھتے ہیں جو ہمارے امام کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور شاگردی میں اور قرآن مجید کی اتباع کی بدولت حاصل ہوئی۔گویا کہ یہ رسول عربی ( فدا نفسی ) کی نبوت کا ہی ایک حصہ ہے نہ کہ کوئی جدا گانہ چیز۔پس باوجود اس کے کہ لاریب جیسا کہ قرآن فرماتا ہے حضور سرور کائنات ہی خاتم النبین ہیں وَ لَعْنَتُ اللهِ عَلَى مَنْ كَذَبَ۔اور لاریب حضور ہی کا وجود وہ مقدس وجود ہے جس پر جیسا کہ آپ نے خود حدیث میں فرمایا ہے " اخر الانبیاء کا لفظ اطلاق پاسکتا ہے۔ہم مقدس بانی سلسلہ احمدیہ کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد حضور کی شاگردی اور غلامی میں آنے والا نبی