مضامین بشیر (جلد 4) — Page 361
مضامین بشیر جلد چہارم 361 میں سب دوستوں کے لئے عموماً اور ان دوستوں کے لئے خصوصاً دعا کرتا رہا ہوں جو رمضان کے ایام میں مجھے تاروں اور خطوں کے ذریعہ دعا کے واسطے لکھتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کی پریشانی دور کرے۔سب کی مشکلات کے حل کا رستہ کھولے۔سب کو دین و دنیا کے مقاصد میں کامیابی سے نوازے اور سب کو حسناتِ دارین سے متمتع فرمائے۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے گو مجھے خدا کے فضل سے جسمانی کمزوری کے لحاظ سے بھی کچھ افاقہ ہے اور طبیعت کی بے چینی اور گھبراہٹ میں بھی نسبتاً کمی ہے مگر ابھی پورا افاقہ نہیں ہے۔کیونکہ ابھی تک میری ٹانگوں میں کافی کمزوری ہے اور ایک بیمار انسان کی طرح بہت آہستہ آہستہ چلتا ہوں اور تھوڑا سا چلنے سے کافی کوفت ہو جاتی ہے۔اسی طرح فکر کی بات پیش آنے پر طبیعت میں گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے اور اعصابی بے چینی رہتی ہے۔پس میں اپنے مخلص دوستوں اور بھائیوں اور بہنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جہاں حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور دوسرے احباب اور جماعت کے لئے دعائیں کرتے ہیں وہاں اس عاجز کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں تا کہ مقدر زندگی مفید کام اور خدمت دین میں گزرے اور انجام بخیر ہو۔باقی میں نے جو اپنی دعائیہ تحریک میں لکھا تھا کہ دوست دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے قیامت کے دن اس گروہ میں شامل کرے جو رسول پاک کی بشارت کے مطابق حساب کتاب کے بغیر بخشا جائے گا۔سواس پر احباب جماعت میں اپنے اپنے رنگ میں مختلف قسم کا رد عمل ہوا ہے۔بعض نے اسے گھبراہٹ کا نتیجہ قرار دیا ہے اور بعض نے اسے کسر نفسی سمجھا ہے۔گھبراہٹ کا تو ممکن ہے کچھ دخل ہو مگر کسر نفسی ہرگز نہیں۔کیونکہ میں نے اس دعا کی تحریک اپنے سارے حالات اور کمزوریوں کا جائزہ لینے کے بعد کی تھی اور وہ بالکل درست تھی۔مجھ میں خدا کے فضل سے تکلف کی عادت نہیں بلکہ ہمیشہ صاف اور سیدھے طریق پر اپنے دل کی بات کہنے کا عادی ہوں۔اللہ تعالیٰ میرے حالات اور میری کمزوریوں کو جانتا ہے اور حق یہی ہے کہ اس کے فضل اور ستاری کے بغیر انسان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں۔لیکن جو دوست حسن ظنی کی بناء پر اس نکتہ کو نہیں سمجھ سکتے وہ کم از کم اصولی رنگ میں یہ بات تو ضرور سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام نے مغفرت اور نجات کی بنیا دانسان کے عمل پر نہیں رکھی بلکہ خدا کے فضل پر رکھی ہے۔پس اگر میں خدا کے فضل و رحمت اور اس کی ستاری اور مغفرت کا طالب ہو کر حساب کتاب کے بغیر بخشش ہونے کی تڑپ رکھتا ہوں تو اس پر ہمارے دوست تعجب کیوں کرتے ہیں؟ حق یہ ہے کہ اگر میرے اندر کوئی نیکی ہے اور مجھے کسی خدمت کی توفیق ملی ہے۔تو وہ محض حضرت مسیح