مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 322 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 322

مضامین بشیر جلد چہارم 322 بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اثر پڑا کہ کوئی ان میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو۔اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہوگئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔۔۔۔۔غرض۔۔۔۔لقا کا مرتبہ جب کسی انسان کو میسر آتا ہے تو اس مرتبہ کے تموج ( یعنی خاص لہر ) کے اوقات میں الہی کام ضرور اس سے صادر ہوتے ہیں گو درجہ میں خدائی کاموں سے کسی قدر کم تر اور ایسے شخص کی گہری صحبت میں جو شخص ایک حصہ عمر کا بسر کرے تو ضرور کچھ نہ کچھ یہ اقتداری خوارق مشاہدہ کرے گا“ ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 64 تا68) لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار صراحت فرمائی ہے کہ معجزات خواہ خدا کی طرف سے اس کی غیر محدود طاقتوں کے ذریعہ سے دکھائے جائیں جیسا کہ عموماً ہوتا ہے یا استثنائی حالات میں روحانی قوت کے تموّج کے وقت میں اقتداری طور پر خود نبی سے ظاہر ہوں دونوں صورتوں میں خدا کی طرف سے یہ ضروری شرط ہے کہ وہ کسی صورت میں خدا کے وعدے اور خدا کی کتاب (یعنی سنت اللہ ) کے خلاف نہیں ہوتے ورنہ نعوذ باللہ خدا پر اعتراض آتا ہے کہ اس نے اپنے وعدے اور اپنی سنت کے خلاف کیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔تمام دنیا کا وہی خدا ہے جس نے میرے پر وحی نازل کی۔جس نے میرے لئے زبردست نشان دکھلائے جس نے مجھے اس زمانہ کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا۔اُس کے سوا کوئی خدا نہیں نہ آسمان میں نہ زمین میں۔جو شخص اُس پر ایمان نہیں لاتا وہ سعادت سے محروم اور خذلان میں گرفتار ہے۔ہم نے اپنے خدا کی آفتاب کی طرح روشن وحی پائی۔ہم نے اُسے دیکھ لیا کہ دنیا کا وہی خدا ہے اُس کے سوا کوئی خدا نہیں۔کیا ہی قادر اور قیوم خدا ہے جس کو ہم نے پایا۔کیا ہی زبر دست قدرتوں کا مالک ہے جس کو ہم نے دیکھا سچ تو یہ ہے کہ اُس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں مگر وہی جو اُس کی کتاب اور وعدہ کے برخلاف ہے۔سو جب تم دعا کرو تو اُن جاہل نیچریوں کی طرح نہ کرو جو اپنے ہی خیال سے ایک قانونِ قدرت بنا بیٹھے ہیں جس پر خدا کی کتاب کی مہر نہیں۔کیونکہ وہ مردود ہیں اُن کی دعائیں ہرگز قبول نہیں ہوں گی لیکن جب تو دعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے کہ یہ یقین رکھے کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔تب تیری دعا منظور ہوگی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا جو ہم نے دیکھے ہیں“۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 20-21) یا درکھنا چاہئے کہ سنت اور وعدے کی استثناء سے نعوذ باللہ خدا کی قدرتوں کی حد بندی مقصود نہیں کیونکہ اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے مطابق خدا تعالیٰ کی قدرتیں حقیقتاً غیر محدود ہیں جن کا حصر ممکن نہیں۔بلکہ سنت