مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 323 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 323

مضامین بشیر جلد چهارم 323 اور وعدے کی مستثنیات سے خدا تعالیٰ کی ذات سے محض اس اعتراض کو دور کرنا مقصود ہے کہ وہ نعوذ باللہ اپنے کلام میں اپنی ایک سنت بیان فرماتا ہے اور پھر خود اس کے خلاف کرتا ہے۔ایک وعدہ کرتا ہے اور پھر خوداس وعدے کو توڑتا ہے۔ورنہ جہاں تک خدا کی ایسی قدرتوں کا سوال ہے جو حقیقتا قدرت کہلانے کی حقدار ہیں اور ان کی وجہ سے خدا میں کوئی نقص لازم نہیں آتا اور اس کے سبحان (یعنی بے عیب) ہونے کی صفت میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوتا وہ یقینا غیر محدود ہیں۔حضرت مسیح موعود اپنے ایک شعر میں کیا خوب فرماتے ہیں کہ۔نہیں محصور ہرگز راستہ قدرت نمائی کا خدا کی قدرتوں کا حضر دعوی ہے خدائی کا 11 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا سب سے بڑا عملی مقصد آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی نیابت اور ظلیت میں اسلام کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کے عالمگیر غلبہ سے تعلق رکھتا تھا۔چنانچہ آپ کی حیاتِ طیبہ کا ایک ایک لمحہ اسی مقدس جہاد میں گزرا اور یہ جہاد صرف ایک محاذ تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ کو اسلام کے غلبہ کی خاطر دنیا کے ہر مذہب کے خلاف برسر پیکار ہونا پڑا اور آپ نے خدا کے فضل سے ہر محاذ پر فتح پائی گئی کہ آپ کی وفات پر آپ کے مخالفوں تک نے آپ کو فتح نصیب جرنیل کے شان دار لقب سے یاد کیا۔(اخبار وکیل امرتسر ماہ جون 1908 ء ) لیکن اس جگہ آپ کی تمام مقدس جنگوں کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں اور نہ میرا یہ مختصر سا مقالہ اس کی تفصیل کا حامل ہو سکتا ہے۔مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس نے اپنے قرآنی وعدہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله ( یعنی مسح محمدی کے زمانہ میں خدا اسلام کو سارے دینوں پر غالب کر کے دکھلائے گا) کے عالمگیر نشان کی ایک موٹی اور بدیہی علامت کے طور پر ایک وقت میں ہی سارے مذاہب کو اپنے مسیح محمدی کی خاطر ایک محاذ پر جمع کر دیا تا کہ دنیا بھر کے شکار ایک گولی کا نشانہ بن کر اسلام کے غلبہ کی متفقہ شہادت دے سکیں۔اس واقعہ کی تفصیل نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مختلف کتابوں اور اشتہاروں میں آچکی ہے بلکہ خود اُس مخلوط کمیٹی کی رپورٹ میں بھی درج ہے جو جلسہ اعظم مذاہب کے انتظام کے لئے مقرر ہوئی تھی اور مختلف مذاہب کے نمائندوں پر مشتمل تھی۔اور یہ ساری رپورٹیں ایک ہی حقیقت کی حامل ہیں اور وہ یہ کہ مذاہب عالم کے اس عظیم الشان جلسہ میں حضرت مسیح موعودؓ کے مضمون کے ذریعہ اسلام کو ایسا غلبہ حاصل ہوا جو فی الواقع بے مثال تھا۔میں اس جگہ حضرت مسیح موعود کے قدیم صحابی حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی روایت کا خلاصہ درج کرتا ہوں جس کے