مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 318 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 318

مضامین بشیر جلد چہارم 318 کی حیثیت میں حضرت مسیح موعود نے انگریز حکومت کی تعریف فرمائی اور یہ تعریف اپنے پس منظر اور اپنے مخصوص ماحول کے لحاظ سے بالکل جائز اور درست تھی۔بلکہ تعریف نہ کرنا یقیناً ناشکری اور بددیانتی کا فعل ہوتا۔بہر حال جو شخص ان دو پہلوؤں کو جو میں نے اس جگہ بیان کئے ہیں مدنظر رکھ کر نیک نیتی کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا مطالعہ کرے گا وہ اس بات کو یقیناً آسانی سے سمجھ لے گا کہ حضرت مسیح موعودؓ نے جو کچھ آج سے ساٹھ ستر سال پہلے کی انگریز کی حکومت کے متعلق لکھا تھا وہ ہرگز ہرگز خوشامد کے رنگ میں نہیں تھا بلکہ وہ صرف انگریزوں کے زمانہ کے قیام امن اور ان کی مذہبی آزادی کی پالیسی کی اصولی تعریف کے طور پر تھا۔ورنہ مذہبا حضرت مسیح موعود نے مسیحیت کے باطل عقائد اور عیسائی پادریوں کے دجل اور مغربی ملکوں کی زہر آلود مادیت کے خلاف جو کچھ اظہار فرمایا ہے وہ اس قدر ظاہر وعیاں ہے کہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔چنانچہ ایک جگہ اپنی ایک عربی نظم میں بڑی غیرت اور جوش کے ساتھ فرماتے ہیں۔أنظُرُ إِلَى الْمُتَنَصِرِينَ وَ ذَانِهِمْ وَانْظُرُ إِلَى مَا بَدَأَ مِنْ أَدْرَانِهِمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُوْنَ تَشَدُّرًا وَيُنَجِّسُوْنَ الْأَرْضَ مِنْ أَوْثَانِهِمُ حَـلَّــتْ بِأَرْضِ الْمُسْلِمِينَ جُنُودُهُمُ فَسَرَتْ غَوَائِلُهُمْ إِلَى نِسْوَانِهِمْ يَا رَبِّ أَحْمَدَ يَا إِلَـهَ مُحَمَّدٍ اِعْصِمُ عِبَادَكَ مِنْ سُمُومِ دُخَانِهِمْ يَا رَبِّ سَحِقُهُمْ كَسَحُقِكَ طَاغِياً وَانُزِلُ بِسَاحَتِهِمْ لِهَدْمِ مَكَانِهِمْ ا رَبِّ مَزْقُهُمْ وَفَرِّقُ شَمْلَهُمْ يَا رَبِّ قَةٍ ودُهُمْ إِلَى ذَوَبَانِهِمْ نور الحق حصہ اول روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 123-126 ) یعنی مسیحیوں کی طرف دیکھو اور ان کے جھوٹے عقائد کو بھی دیکھو اور پھر ان ناپا کیوں کی طرف بھی دیکھو جوان کی وجہ سے پیدا ہورہی ہیں۔وہ اپنے ظلموں اور زیادتیوں کے ساتھ ہر بلندی سے کمزور قوموں کی طرف