مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 312 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 312

مضامین بشیر جلد چهارم 312 نظیر نہیں ملے گی۔حق یہ ہے کہ ہم نے دنیا بھر میں اس جیسا سوتوں کو جگانے والا کوئی نہیں دیکھا وہ خدا کی طرف سے ایک نور بن کر نازل ہوا اور خدا نے اس کے ہاتھ سے دنیا کو روحانی علوم میں نئی زندگی بخشی۔وہ خدا کا برگزیدہ ہے اور چُنیدہ ہے اور پیشوائے عالم ہے اور وہ وہی تو ہے جو تمام فیوض کا منبع ہے۔4 اسلام کی سکھائی ہوئی کامل اور بے داغ تو حید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیع اور ارفع اخلاقِ فاضلہ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک فطرت پر اتنا گہرا اثر تھا کہ آپ کے لئے ساری دنیا بلا امتیا ز قوم و ملت ایک خاندان کا رنگ اختیار کر گئی تھی اور آپ سب کو حقیقتاً اپنے عزیزوں کی طرح سمجھتے تھے اور دشمنوں تک سے محبت رکھتے اور ان کے دلی خیر خواہ تھے۔چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں۔” بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے بھی دعا نہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا ہے۔۔۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی سے مسلمان ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا فرمایا کرتے تھے۔شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے ہم نے دو تین مرتبہ دعانہ کی ہو۔ایک بھی ایسا نہیں اور یہی میں تمہیں بھی کہتا ہوں اور سکھاتا ہوں۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تمہیں چاہئے کہ ایسی جماعت بنو جس کی نسبت آیا ہے که إِنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَشْقَى جَلِیسُهُمْ۔یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ اُن کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے اور ملنے جلنے والا شخص بھی ان کی نیکی اور ہمدردی سے محروم نہیں رہتا ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 68-69 جدید ایڈیشن) خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ سن لیں کہ وہ دنیا میں اسی طرح دشمنوں کے بھی دوست بن کر رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں جس طرح کہ ان کا امام سب کا دوست تھا جس نے دشمنوں کے لئے بھی ہمیشہ دعا کی۔تو جب دشمنوں کے متعلق احمدیت کی یہ تعلیم ہے تو پھر خود سوچ لو کہ دوستوں اور بھائیوں کے ساتھ محبت اور اخوت اور قربانی کا معیار کیسا بلند ہونا چاہئے ! بے شک ہر بچے احمدی کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ دنیا سے بدی کو مٹانے کے لئے ہر وقت کوشاں رہے مگر بدی اور بد میں بھاری فرق ہے۔اسلام بدی کو پورے زور سے مٹاتا ہے اور بک کو مٹانے کی بجائے نصیحت اور موعظہ حسنہ اور دعا کے ذریعہ اصلاح کی طرف کھینچنے کی کوشش کرتا ہے اور یہی صحیح رستہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پنڈت لیکھرام جیسے بدگو دشمن اسلام کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میں اسے بچانا چاہتا تھا مگر وہ میری نصیحت کو ر ڈ کر کے ہلاکت کے گڑھے میں جا گرا۔