مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 268 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 268

مضامین بشیر جلد چهارم دست با کار و دل بایار 268 یعنی سچے مومن کی علامت یہ ہے کہ ہاتھ تو اس کا کام میں لگا ہوا ہو خواہ یہ دنیا کا کام ہو یا دین کا ) مگر اس کا دل ہر وقت خدا کے ساتھ بندھا رہے۔یقینا خدا کے تعلق کا بہترین ذریعہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقوال اور لاکھوں کروڑوں مومنوں کے تجربہ سے پتہ لگتا ہے یہی ہے کہ انسان کو خدا کے حضور دعاؤں میں گرے رہنے کی عادت ہو اور ظاہری اسباب کو اختیار کرنے کے باوجود اس کا دل اس یقین سے معمور رہے کہ جو کچھ ہو گا خدا کے فضل سے ہی ہوگا۔پس اے عزیز و خوب دل لگا کر اور سنوار سنوار کر نمازیں پڑھو اور دعاؤں کی عادت ڈالو اور ہر کام میں خدا کی نصرت کے طلب گار رہو۔آپ لوگ نو جوان ہیں۔آپ کے دل میں طبعا دنیا کی ترقی کی امنگیں بھی ہوں گی اور اسلام دنیا میں ترقی کرنے سے نہیں روکتا بلکہ قرآن مجید نے خود یہ دعا سکھائی ہے کہ : رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَ فِي الآخِرَةِ حَسَنَةٌ وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ یعنی اے ہمارے خدا! تو ہمیں دنیا کی نعمتوں سے بھی حصہ دے اور آخرت کی نعمتوں سے بھی حصہ دے اور ہمیں دین و دنیا میں ناکامیوں اور مایوسیوں کی سوزش سے بچا کر رکھ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ خدام الاحمدیہ خدا کے فضل سے اچھا کام کر رہے ہیں اور ان کے اندر عام طور پر بیداری کے آثار پائے جاتے ہیں۔لیکن یہ بیداری ابھی تک ایسی کامل بیداری نہیں ہے جس پر پوری تسلی کا اظہار کیا جا سکے۔بعض جگہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں اختلاف کی صورت پیدا ہو جاتی ہے اور اتحاد کو سخت دھکا لگتا ہے۔بعض نوجوان شہروں کی فضا سے متاثر ہو کر اسلام اور احمدیت کی تعلیم پر عمل کرنے میں ستی دکھاتے ہیں اور بعض میں نمازوں کی وہ پابندی نہیں پائی جاتی جو احمد بیت کا شعار ہے۔اور بعض کا دنیا داری کی طرف حد اعتدال سے زیادہ رجحان ہے۔اور بعض خدام الاحمدیہ کے کام میں اتنی دلچسپی نہیں لیتے جتنی کہ انہیں لینی چاہئے وغیرہ وغیرہ۔ان سب مستیوں کو دور کرنا چاہئے اور نہ صرف اپنے محاسبہ سے اپنی ذاتی سستی کو دور کرنا چاہئے بلکہ اپنے دوستوں اور ہمسائیوں پر نظر ڈال کر جس جس احمدی نوجوان میں کوئی اخلاقی یا دینی کمزوری پائی جائے اسے علیحدگی میں سمجھا کر اور نصیحت کر کے اور غیرت دلا کر اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ درست ہے کہ بعض اوقات نظم و ضبط کو قائم رکھنے کے لئے یا زیادہ نقص کی صورت میں اصلاح کی غرض سے تعزیری کا رروائی کرنی پڑتی ہے مگر ہم لوگ چونکہ ایک جمالی مامور ومرسل کے دور میں ہیں اس لئے ہمیں زیادہ تر محبت اور نصیحت اور غیرت دلانے سے اصلاح کا کام لینا چاہئے اور سزا کی طرف صرف