مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 269 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 269

مضامین بشیر جلد چہارم 269 اس وقت رجوع کرنا چاہئے کہ جب اس کے سوا چارہ نہ ہو اور ایک خراب عضو کی وجہ سے دوسرے اعضا کے خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے۔حال ہی میں جو خدام الاحمدیہ کے مقامی اور علاقائی اجتماعوں اور تربیتی کورسوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے یہ سلسلہ خدا کے فضل سے بہت ہی مبارک اور مفید نتائج پیدا کر رہا ہے۔اور میں دیکھتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں اکثر نو جوانوں میں کافی حرکت اور بیداری کے آثار پائے جاتے ہیں۔سو اس سلسلہ کو مزید ترقی دینی چاہئے تا کہ نوجوانوں میں علمی معلومات کے اضافہ کے علاوہ تنظیم اور قوت عمل اور اتحاد کی روح ترقی کرے۔اور خدام کو چاہئے کہ ایسے اجتماعوں میں بعض معتمر بزرگوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کو بھی شامل کر کے ان کی نصیحتوں سے فائدہ اٹھائیں۔خدام الاحمدیہ کے اجتماعوں اور تربیت کی کلاسوں کے تعلق میں میں اس بات پر خاص زور دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے نو جوانوں کو تقریر اور تحریر میں خاص مہارت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو زبان اور قلم کے دوز بر دست آلے عطا کئے ہیں اور اس زمانہ میں ان کی قدر و منزلت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور دین و دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کے لئے زبان و قلم کا اچھا استعمال بہت ضروری ہو گیا ہے۔میں اس زمانہ میں بچہ تھا مگر مجھے آج تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقرب صحابی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کا تقریر وتحریر میں کمال نہیں بھولتا۔ان کی زبان اور قلم دونوں میں غضب کا جادو تھا اور ان کی تقریر سننے والا اور تحریر پڑھنے والا گویا وجد میں آجاتا تھا۔اگر ہمارے بچے اور ہمارے نو جوان بچپن اور نو جوانی کی عمر سے ہی اپنے ان دو فطری جو ہروں کو مشق کے ذریعہ اُجاگر کرنے کی کوشش کریں تو وہ ملک و ملت کے بہترین خادم بلکہ اگر خدا کا فضل شامل حال ہوتو خادم سے مخدوم بن سکتے ہیں۔میں اس جگہ خدام الاحمدیہ سے اسلامی پردے کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں خواہ یہ موقع بظاہر اس کے لئے لا تعلق ہی سمجھا جائے۔میں اس مردانہ اجتماع میں پردے کا ذکر اس لئے کرنے لگا ہوں کہ اول تو پردہ میں غض بصر اسلامی پردے کی روح ہے جو سب کے لئے یکساں ہے۔پس خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ موجودہ بے پردگی کے دور میں غض بصر کے حکم پر بڑی احتیاط اور مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں اور کسی غیر محرم عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھیں۔اور اگر کبھی اتفاقا نظر اٹھ جائے تو فوراً نظریں نیچی کر لیں۔اس سے انشاء اللہ ان کے اندر تقویٰ کی روح ترقی کرے گی اور ان کے نفسوں میں غیر معمولی پاکیزگی پیدا ہوگی اور ضبط نفس کا مادہ بڑھے گا اور ان کا کریکٹر بلند ہو جائے گا۔دوسرے خدام الاحمدیہ کو یہ بھی چاہئے اور یہ ایک بڑی