مضامین بشیر (جلد 4) — Page 264
مضامین بشیر جلد چهارم 264 انصار اللہ اور عہدیداران جماعت کے اجتماعات مناسب موقع پر مناسب مقامات میں ضرور وقتا فوقتا منعقد کئے جائیں تا کہ وہ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور عہدیداران جماعت کی تربیت اور بیداری کا موجب ہوں اور نیکی اور خدمت اور قربانی اور اتحاد جماعت کے جذبے کو ترقی دیں۔(3) صدر انجمن احمدیہ کو توجہ دلائی گئی کہ کچھ عرصہ سے پاکستان میں مسیحی مشنریوں کی تبلیغی مساعی کا زور ہو رہا ہے اور جیسا کہ بعض اخباری رپورٹوں سے ظاہر ہے نا واقف مسلمانوں کا ایک طبقہ اپنی جہالت اور اسلامی تعلیم سے ناواقفیت کی وجہ سے عیسائیت کی آغوش میں جارہا ہے۔اس تحریک کو زیادہ تر دووجہ سے تقویت حاصل ہوئی ہے۔ایک تو امریکن ایڈ کی وجہ سے جس کے نتیجہ میں ملک میں امریکن مشنریوں کا گویا سیلاب آ رہا ہے۔دوسرے اس وجہ سے کہ ملک میں حکومت کے سکولوں کی تعداد بہت کم ہے اور مسلمان بچے اور بچیاں مجبور عیسائی سکولوں میں (خواہ وہ امریکن ہیں یا کہ دوسرے عیسائی سکول ) داخلہ لینے کا رستہ تلاش کرتے ہیں اور پھر کچی عمر میں خاموش طور پر عیسائیت کے خیالات اور تمدن سے متاثر ہوتے ہیں۔نگران بورڈ میں فیصلہ کیا گیا کہ اس کے متعلق جماعت کی طرف سے بھی اور حکومت کو توجہ دلانے کے ذریعہ بھی مناسب اور مؤثر تدابیر اختیار کی جائیں۔(4) فیصلہ کیا گیا کہ صدرانجمن احمدیہ کو توجہ دلائی جائے کہ کوہ مری میں ایک تبلیغی مرکز ، ایک لائبریری کے قیام کے متعلق مناسب تدابیر اختیار کرے۔نوٹ : اس کے علاوہ بعض انفرادی کیسوں میں فیصلہ کیا گیا اور بعض مزید اصلاحی تجاویز بھی کی گئیں جن کی تکمیل کے بعد ان کی اشاعت ہو سکے گی۔( محررہ 5 اکتوبر 1961ء)۔۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوه 12 اکتوبر 1961ء) 44 حضرت سید فضل شاہ صاحب مرحوم کی اہلیہ صاحبہ کی وفات کل بتاریخ 16 اکتو بر عزیز ڈاکٹر سید عنایت اللہ شاہ صاحب کی والدہ سیدہ سکینہ بی بی صاحبہ کا جنازہ لاہور سے آیا وہ ربوہ کے مقبرہ بہشتی میں دفن کی گئیں۔مرحومہ حضرت سید فضل شاہ صاحب مرحوم کی اہلیہ تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے خادم اور اول درجہ کے مخلص اور درویش منش بزرگ تھے۔مرحومہ نے شروع میں ہی یعنی اپریل 1906ء میں وصیت کر دی تھی چنانچہ ان کی وصیت کا نمبر 150 تھا جس میں