مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 265 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 265

مضامین بشیر جلد چهارم 265 چار اصحاب شامل تھے یعنی حضرت سید فضل شاہ صاحب اور ان کی اہلیہ اور حضرت شاہ صاحب کے بھائی حضرت سید ناصر شاہ صاحب مرحوم اور ان کی اہلیہ۔انہوں نے وصیت کے ساتھ ہی وصیت کی رقم بھی ادا کر دی تھی اور گو حضرت شاہ صاحب مرحوم بیعت میں زیادہ قدیم تھے مگر خود مرحومہ کی بیعت بھی کافی پرانی تھی اس لئے صحابہ کے قطعہ خاص میں دفن ہوئیں۔اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے اور ان کی اولاد کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔وفات کے وقت قمری حساب سے عمر غالباً قریباً پچاسی سال تھی۔مجھے اس وقت حضرت سید فضل شاہ صاحب مرحوم کا ایک دلچسپ اور روح پرور واقعہ یاد آ رہا ہے جو انہوں نے مجھے خود بھی سنایا تھا اور بعض دوسرے دوستوں سے بھی سنا گیا۔واقعہ یہ تھا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک قادیان میں تشریف رکھتے تھے اور حضور کے پاس چند خدام بیٹھے تھے جن میں شاہ صاحب مرحوم بھی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس وقت فرمایا کہ مجھے اسی وقت کشفی طور پر یہ نظارہ دکھایا گیا ہے کہ ان حاضر الوقت لوگوں میں سے بعض میری طرف پیٹھ دے کر بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ فرما کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندرونِ خانہ تشریف لے جانے لگے۔اس پر سید فضل شاہ صاحب مرحوم بے قرار ہو کر حضور کے پیچھے گئے اور حضور کا دامن پکڑ کر قریباً روتے ہوئے عرض کیا کہ حضرت! میں اور وں کے متعلق نہیں پوچھتا مگر خدا کے لئے مجھے یہ بتادیں کہ ان پیٹھ دینے والے لوگوں میں میں تو نہیں ہوں؟“ حضرت مسیح موعود مسکرائے اور فرمایا ”نہیں شاہ صاحب آپ ان میں نہیں ہیں اور یہ فرما کر اندر تشریف لے گئے۔اللہ اللہ! کیا زمانہ تھا اور یہ کس پائے کے بزرگ تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دامن سے وابستہ ہوئے۔( محرره 17 اکتوبر 1961 ء) LO روزنامه الفضل ربوہ 19 اکتوبر 1961 ء) مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1961ء پر افتتاحی خطاب نو جوانوں اور عزیزوں کو بعض نصائح عزیزان کرام! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته