مضامین بشیر (جلد 4) — Page 258
مضامین بشیر جلد چهارم 258 تھیں۔مناظرہ میں ان کو یہ کمال حاصل تھا کہ اپنی نو جوانی میں بھی جہان دیدہ اور کہنہ مشق مخالفوں کو چند منٹ میں خاموش کرا کے رکھ دیتے تھے۔1918ء میں جبکہ وہ ابھی بالکل نوجوان تھے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایده اللہ بنصرہ نے انہیں بمبئی میں تبلیغ کے لئے بھیجا اور اس سفر میں یہ خاکسار بھی ان کے ساتھ تھا۔وہاں ایک بڑے جہان دیدہ بوڑھے پادری نے غیر احمدی مسلمانوں کا ناطقہ بند کر رکھا تھا لیکن جب حضرت میر محمد اسحاق صاحب کا اس کے ساتھ مناظرہ ہوا تو ان کے سامنے یہ خرانٹ پادری ایک طفلِ مکتب نظر آیا اور مسلمان نوجوانوں نے خوش ہو کر حضرت میر محمد اسحاق صاحب کو گو یا اپنے ہاتھوں میں اُٹھالیا۔جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے حضرت میر محمد اسحاق صاحب کا دماغ بڑا صاف اور بڑا روشن تھا۔وہ جب بظاہر ایک کمزور بات پر بھی بولنے لگتے تھے تو مضبوط بات کے حاملین ان کے سامنے لاجواب ہو کر رہ جاتے تھے۔ایک لطیفے کی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت میر صاحب نے قادیان میں وفات وحیات مسیح ناصری پر اپنے شاگردوں کا ایک مناظرہ کرایا۔اس مناظرہ کی غرض مناظرے کے میدان میں نو جوانوں کی ٹرینینگ تھی۔جماعت کے دوست جانتے ہیں کہ احمدیوں میں وفات مسیح کا مسئلہ اتنا واضح ہو چکا ہے اور اتنی پختہ اور قطعی دلیلوں سے ثابت ہے کہ ایک بچہ بھی جو تعصب سے خالی ہو اس کا انکار نہیں کرسکتا۔لیکن چونکہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم بچوں کو مشق کرانے کے خیال سے حیات مسیح کی تائید کرنے والی پارٹی کی طرف سے کھڑے ہو گئے تھے اس لئے انہوں نے اپنے مصنوعی دلائل سے مجلس میں ایسا سماں باندھا کہ بعض کم واقف اور کمزور طبیعت نوجوان پریشان ہو کر بول اٹھے کہ کیا مسیح ناصری واقعی زندہ تو نہیں ہیں؟ مجلس مشاورت میں حضرت میر صاحب کی تقریریں سننے سے تعلق رکھتی تھیں اور جب وہ بولنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گھنے بادلوں سے گھرا ہوا آسمان دیکھتے ہی دیکھتے بادلوں کی تاریکی سے بالکل صاف ہو گیا ہے اور کسی بادل کا نام ونشان تک باقی نہیں رہا۔جماعت احمدیہ کے مختلف صیغوں میں سے حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کو دو صیغوں میں خاص طور پر نمایاں خدمت کا موقع ملا۔اول بطور ناظر ضیافت کی حیثیت میں اور دوسرے ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ کی حیثیت میں۔اور ان دونوں میں ان کا کام اتنا کامیاب اور اتنے شاندار اور اتنے خوبصورت نتائج کا حامل تھا کہ آج تک بعد میں آنے والا کوئی افسران کی گرد کو بھی نہیں پہنچا۔ناظر ضیافت کی حیثیت میں وہ یوں نظر آتے تھے کہ گویا ایک گھر کا بزرگ بیٹھا ہوا اپنے بچوں اور عزیزوں اور دوستوں کی مہمانی سے لطف اندوز ہورہا اور ان کو لطف اندوز کر رہا ہے۔وہ اکثر جب کسی باہر سے آنے والے دوست کو رستے میں دیکھتے تھے تو اُسے پکڑ کر مہمانخانہ