مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 239 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 239

مضامین بشیر جلد چهارم 239 افراد ہیں اور پھر ساری جماعت ہے جو خدا کی طرف سے اخوت کی تاروں میں باندھی گئی ہے۔یہ ظاہر ہے کہ ہم خدا کے مامور د مرسل کے زمانہ سے دن بدن اور لحظہ بہ لحظہ دور ہوتے جا رہے ہیں اور وقت کے قرب کی زبردست مقناطیسی طاقت سے ہر آن محروم ہورہے ہیں۔یہ وہ بھاری نقصان ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد بھی مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔چنانچہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کا آخری نقشہ آپ لوگوں کے سامنے ہے جسے اس جگہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔اور اب تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک صحابہ کا زمانہ بھی جلد جلد ختم ہورہا ہے اور یہ روحانی روشنی پہنچانے والے اور تاریکی میں رستہ دکھانے والے چاند ستارے بڑی سرعت کے ساتھ افق قریب میں غروب ہوتے جا رہے ہیں۔دوستو اور عزیز و! کیا آپ لوگوں نے کبھی اس نقصان کا جائزہ لیا ؟ اور اس کے تدارک اور تلافی کی تدبیرسوچی ؟ اگر نہیں سوچی تو آخر کب سوچیں گے ؟ کیا اس وقت سوچیں گے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے روحانی چہرہ کو دیکھنے والے اور آپ کی پاک صحبت سے مستفیض ہونے والے اور آپ کے مبارک کلام کو سننے والے لوگ سب کے سب اپنی اپنی قبروں میں جاسوئیں گے؟ خدا کرے کہ ایسا نہ ہو مگر سوال یہ ہے کہ اس کا علاج کیا ہے؟ ایک سیدھا سادہ علاج مگر بہت مشکل علاج ، بہت ہی مشکل علاج۔بلکہ شاید اس زمانہ کے لحاظ سے ناممکن علاج میں بتائے دیتا ہوں۔یہ علاج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیر معمولی عبادات اور ریاضات اور صوم وصلوٰۃ اور دردمندانہ دعاؤں اور تلاوت کلام پاک اور مطالعہ حدیث و اقوال بزرگان سلف اور محبت الہی اور عشق رسول اور انقطاع الی اللہ اور شفقت علی خلق اللہ کے عجیب و غریب نظاروں میں ملتا ہے جس کے نتیجہ میں آپ تیرہ سو سال پیچھے آنے کے باوجود آگے نکل گئے۔حتی کہ خدا نے آپ کو مخاطب کر کے بڑی محبت واکرام کے ساتھ فرمایا کہ: آسمان سے کئی تخت اترے مگر سب سے اونچا تیر تخت ( رسول پاک کے بعد ) سب سے اوپر بچھایا گیا“ (تذکرۃ ایڈیشن چہارم صفحه 323) اور خود رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عالم کشف میں اپنے اس خادم اور نائب کی بے نظیر خدمات اور ترقیات کا نظارہ دیکھ کر فرمایا کہ: يُدْفَنَ مَعِي فِي قَبْرِى یعنی میرے سلسلہ کے مسیح کی وہ شان ہے کہ مرنے کے بعد اسے میرے ساتھ جگہ دی جائے گی اس الہام الہی اور اس حدیث نبوی میں یہ عظیم الشان بشارت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اندر غیر معمولی جذب پیدا کرے اور خدا کے خاص فضل و نصرت کا جاذب بنے تو ایک انسان وقت کی حدود کو تو ڑ کر پہلے