مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 182 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 182

مضامین بشیر جلد چهارم $26 182 اس عدیم المثال محبت کی وجہ سے جو خدا کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں تھی اور پھر اس محبت کی وجہ سے جو خدا کو آپ کے ساتھ تھی حضرت مسیح موعود کو خدا کی غیر معمولی نصرت اور حفاظت پر ناز تھا۔چنانچہ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ جب ایک آریہ نے اسلام پر یہ اعتراض کیا کہ قرآن نے حضرت ابراہیم کے متعلق یہ بات قانونِ قدرت کے خلاف بیان کی ہے اس لئے وہ قابل قبول نہیں کہ جب دشمنوں نے ان کو آگ میں ڈالا تو خدا کے حکم سے آگ ان پر ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول نے اس اعتراض کے جواب میں یہ لکھا کہ یہاں آگ سے حقیقی آگ مراد نہیں بلکہ دشمنی اور شرارت کی آگ مراد ہے اور بعض لوگوں نے اس جواب کو بہت پسند کیا۔مگر جب مولوی صاحب کے اس جواب کی اطلاع حضرت مسیح موعود کو پہنچی تو آپ نے بڑے جلال کے ساتھ فرمایا کہ مولوی صاحب کو اس کی تاویل کی ضرورت نہیں تھی۔خدا کے بنائے ہوئے قانونِ قدرت کا احاطہ کون کر سکتا ہے؟ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ایک نہایت لطیف اور بصیرت افروز شعر میں فرماتے ہیں کہ : نہیں محصور ہرگز راستہ قدرت نمائی کا خدا کی قدرتوں کا حصر دعوی ہے خدائی کا اور حق بھی یہ ہے کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے جو باتیں بظا ہر قانونِ قدرت کے خلاف سمجھی جاتی تھیں وہ آج نئی نئی تحقیقاتوں اور نئے نئے انکشانوں کے نتیجہ میں قانونِ قدرت کے مطابق ثابت ہو رہی ہیں اور پھر خدا اپنے بنائے ہوئے قانون کا غلام نہیں ہے بلکہ اپنے خاص مصالح کے ماتحت اس قانون میں وقتی طور پر مناسب تبدیلی بھی کر سکتا ہے۔جیسا کہ وہ خود قرآن میں فرماتا ہے کہ : اللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ (يوسف: 22) یعنی خدا اپنی جاری کردہ تقدیر پر بھی غالب ہے اور اسے خاص حالات میں بدل سکتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا اپنے بنائے ہوئے قانون اور سلسلہ اسباب کو توڑ دیتا ہے بلکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے تصریح فرمائی ہے مراد یہ ہے کہ بعض اوقات خدا ایسے مخفی د مخفی اسباب پیدا کر دیتا ہے جو دنیا کو نظر نہیں آتے مگر ان کے نتیجہ میں اس کے کسی بد یہی قانون میں وقتی تبدیلی رونما ہو جاتی ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 114)