مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 181 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 181

مضامین بشیر جلد چهارم 181 (البدر 16 اپریل 1904ء) یعنی اے محبت ! تیرے آثار عجیب و غریب ہیں کیونکہ تو نے آسمانی معشوق کے رستہ میں زخم کی تکلیف اور مرہم کی راحت کو ایک جیسا بنا رکھا ہے۔تیری طاقت کا یہ عالم ہے کہ ایک ذرہ بے مقدار کو اپنے ایک جلوہ سے سورج کی طرح بنا دیتی ہے اور کتنے ہی خاک کے ذرے ہیں جن کو تو نے چمکتا ہوا چاند بنا دیا ہے۔دنیا میں کوئی شخص کسی دوسرے کی خاطر صدق و اخلاص کے ساتھ جان نہیں دیتا مگر حق یہ ہے کہ اے محبت ! تو نے اور صرف تو نے ہی اس جان بازی کے سودے کو بالکل آسان کر دیا ہے۔میں تو جب تک خدا کے عشق میں دیوانہ نہیں ہوا میرے سر میں ہوش نہیں آیا۔پس اے جنونِ عشق ! میرے دل کی تمنا یہ ہے کہ تیرے ہی اردگرد طواف کرتا رہوں کہ تو نے مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔وہ مسیح جسے لوگ اپنی غلطی سے آسمان پر بیٹھا ہوا بتاتے تھے تو نے اے محبت ! اپنی کرشمہ سازی سے اسے اس زمین میں سے ہی ظاہر کر دیا ہے۔دوسری جگہ اپنی ایک اردو نظم میں سلوک الی اللہ کے مراحل کا ذکر کرتے ہوئے محبت کی تاثیرات کے متعلق فرماتے ہیں: فقر کی منزل کا ہے اوّل قدم نفي وجود پس کرو اس نفس کو زیر و زبر از بهر یار تلخ ہوتا ہے ثمر جب تک کہ ہو وہ ناتمام اس طرح ایماں بھی ہے جب تک نہ ہو کامل پیار عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پر خطر عشق ہے جو سر جھکا دے زیر تیغ آبدار کوئی ره نزدیک تر راہِ محبت سے ، نہیں طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت خار ہے اس کے پانے کا یہی اے دوستو اک راز کیمیا ہے جس سے ہاتھ آ جائے گا زر بے شمار تیر تاثیر محبت کا خطا جاتا نہیں تیر اندازو! نہ ہونا سست اس میں زینہار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 139-141)