مضامین بشیر (جلد 4) — Page 135
مضامین بشیر جلد چهارم 135 اس طرح کوئی احمدی کسی احمدی کے ہاتھ سے مرتا ہے تو ہم مجبور ومعذور ہیں۔اصول کو کسی فرد پر قربان نہیں کی جا سکتا مگر فردکو اصول پر قربان کیا جا سکتا ہے۔اور قرآن کا خدا یقیناً ایسے فعل کو قابل معافی سمجھے گا جو اس کی بتائی ہوئی تعلیم کے نتیجہ میں حالات کی مجبوری کی صورت میں سرزد ہوتا ہے۔اور دنیا کے لئے یہ سوال اس لئے نیا نہیں کہ تاریخ میں ایسی سینکڑوں مثالیں پائی جاتی ہیں کہ ہندوؤں کو ہندوؤں کے خلاف اور مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف لڑنا پڑا ہے اور اپنے ہم عقیدہ لوگوں کے ہاتھوں دنیا میں ہزاروں لاکھوں لوگ قتل ہوئے ہیں اور دنیا کی اکثر لڑائیاں بے اصولی کے نتیجہ میں ظلم و تعدی کے رنگ میں لڑی گئی ہیں۔تو پھر اگر کسی وقت احمدیوں کو خدا کے بنائے ہوئے اصول کی خاطر احمدیوں کے خلاف معذوری کی صورت میں لڑنا پڑے تو اس پر کیا اعتراض ہے؟ وہ لڑیں گے بھی اور دل میں دعا بھی کریں گے کہ خدایا تو اپنے فضل و رحمت سے اس جنگ کو ایسے امن کی صورت میں بدل دے جو دنیا میں حق و انصاف کے قیام کا موجب ہو۔اور اگر یہ سوال پیدا ہو کہ احمدی ایک امام کے ماتحت ہیں تو پھر اس صورت میں وہ ایک دوسرے کے خلاف کس طرح لڑ سکتے ہیں تو اول تو اس کا اصولی جواب حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس حوالہ میں گزرچکا ہے جو اس مضمون میں دوسری جگہ درج ہے۔یعنی خلیفہ شریعت کے احکام کے ماتحت ہے نہ کہ ان سے بالا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ : کوئی خلیفہ یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ خدائی حکم کو بدل دے۔کیونکہ خلیفہ ڈکٹیٹر نہیں بلکہ وہ نائب ہے اور نائب اپنے بالا حکام کے احکام کا اسی طرح تابع ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے لوگ (الفضل مؤرخہ 5 اپریل 1949ء) اس تعلق میں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جماعت احمدیہ کی خلافت خالص روحانی خلافت ہے جس کا سیاست یا حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔علاوہ ازیں کیا رومن کیتھولک ملکوں کی کیتھولک ملکوں کے خلاف کبھی لڑائیاں نہیں ہوئیں؟ حالانکہ سب رومن کیتھولک پوپ کے ماتحت ہیں اور ماتحت بھی ایسے کہ اس کے حکم کو گویا خدا کا حکم جانتے ہیں۔اور پھر کیا بغداد کی خلافت کے زمانہ میں جس کی امامت کی خلافت کو ساری سنتی دنیا مانتی تھی بعض مسلمانوں نے دوسرے مسلمانوں کے خلاف لڑائیاں نہیں کیں ؟ اور پھر کیا ترکی کی خلافت کے زمانہ میں مسلمان ملکوں نے ایک دوسرے کا خون نہیں بہایا ؟ حالانکہ یہ سب لڑنے والے ایک خلیفہ اور ایک امام کی ماتحتی کا دم بھرتے