مضامین بشیر (جلد 4) — Page 136
مضامین بشیر جلد چهارم 136 تھے۔یہ سب حقائق بلند آواز سے بولتے ہوئے حقائق ہیں جن کی صداقت میں کوئی سمجھدار انسان شک نہیں کرسکتا۔تو پھر جماعت احمدیہ کے متعلق ہمارے بار بار اعلانات کے باوجود کیونکر شبہ کیا جاسکتا ہے؟ الغرض ہمارا مسلک اس معاملے میں بالکل واضح اور پاک وصاف ہے اور ہم پھر ایک دفعہ با نگ بلند دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے افراد اپنی اپنی جگہ پر ہر اس حکومت کے وفادار ہیں جس کے ماتحت وہ بستے ہیں۔پاکستان کے احمدی پاکستان کے وفادار ہیں اور دل سے اس کی خوشحالی اور ترقی کے لئے دعا گو۔ہندوستان کے احمدی ہندوستان کے وفادار ہیں اور یہ وہی نصیحت ہے جو مرحوم قائد اعظم نے ہندوستان کے مسلمانوں کو کی تھی۔انڈونیشیا کے احمدی انڈونیشیا کے وفادار ہیں۔دمشق ومصر کے احمدی متحدہ عرب جمہوریہ کے وفادار ہیں۔مغربی افریقہ کے احمدی اپنی اپنی حکومتوں کے وفادار ہیں۔جرمنی کے احمدی جرمنی کے وفادار ہیں۔برطانیہ کے احمدی برطانیہ کے وفادار ہیں اور امریکہ کے احمدی امریکہ کے وفادار ہیں۔وعلی ہذالقیاس۔یہ خدا کا حکم ہے اور ہمارے دل کی آواز۔و ہر کہ گوید دروغ ہست لعین۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( محرره 5 دسمبر 1960ء)۔۔۔۔۔۔۔(روز نامہ الفضل جلسہ سالانہ نمبر 1960ء) 64 میرے استاد حافظ روشن علی صاحب مرحوم حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم میرے استاد تھے اور جماعت احمدیہ کے علماء کی صف اول میں شمار ہوتے تھے۔ان کے ذکر سے دل میں بہت سی شیریں یادیں تازہ ہوتی ہیں جن میں لازماً کچھ تھی بھی ملی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جنت الفردوس کے اعلیٰ مقام میں جگہ دے اور جماعت میں ان کا علمی اور روحانی ورثہ جاری رکھے۔حضرت حافظ صاحب کا دماغ بہت روشن اور صاف تھا اور گفتگو نہایت واضح اور مدلل فرمایا کرتے تھے جو سننے والے کے دل میں بیٹھتی چلی جاتی تھی اور پیرا یہ بھی بہت دلکش تھا۔مناظرہ میں بھی حضرت حافظ صاحب کو ید طولی حاصل تھا اور جب مخالف مناظر ان کے دلائل سے گھبرا کر پیچھے ہٹتا تھا تو حافظ صاحب کی بمباری دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔گویا حریف کو اس کے گھر تک پہنچا کر ختم کرنا چاہتے ہیں۔افسوس ہے کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی طرح حضرت حافظ صاحب صرف سینتالیس (47) برس کی