مضامین بشیر (جلد 4) — Page 79
مضامین بشیر جلد چهارم 79 نگرانی سے عملاً محروم ہیں۔ہمارے لئے دل سوز دعاؤں کے علاوہ اس کی کمی کو پورا کرنے کا یہی واحد ذریعہ ہے کہ ہم اوپر کے بیان شدہ چار طریقوں کو اختیار کر کے خدائی نصرت کے طالب ہوں۔اور اپنے عمل سے ثابت کر دیں کہ خلیفہ وقت کی بیماری نے ہمارے دلوں میں ذمہ داری کا احساس کم نہیں کیا بلکہ بڑھا دیا ہے اور ہم نے اس وجہ سے اپنی کوششوں میں سستی پیدا ہونے نہیں دی۔بلکہ اپنے قدم کو تیز سے تیز تر کر کے اس فرض کو پورا کیا ہے جو خدائے عرش نے ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ دیکھو اس وقت امام بیمار ہے اور گو اس کی دعا اور روحانی توجہ ہمارے ساتھ ہے مگر پھر بھی ہم ظاہری صورت میں اس کی نگرانی اور اس کی روزمرہ کی ہدایات سے بڑی حد تک محروم ہیں۔پس نیک اور سعید الفطرت بچوں کی طرح جو باپ کی بیماری میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہو جایا کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ فرض شناسی سے ادا کرتے ہیں تم بھی اپنے کندھوں کو باہم پیوست کر لو اور اپنی کمروں کو کس لو اور اپنے قدموں کو تیز کر دو۔تم حضرت خاتم النبین افضل الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اور حضرت مسیح محمدی کی جماعت ہو جن کے متعلق خدا نے قرآن میں وَ آخَرينَ مِنْهُمْ کے الفاظ فرمائے ہیں۔پس ایسا عمل دکھاؤ اور دین کے رستے میں ایسی خدمت اور ایسی قربانی اور ایسی فدائیت کا نمونہ پیش کرو کہ دنیا کے اسود و احمر تمہاری طرف بے اختیار کھنچے آئیں۔اور آسمان کے فرشتے تم پر رحمتیں بھیجیں۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک روحیں تم پر خوش ہوں اور خدائے ذوالمجد والعلی تمہیں اپنے انوار و برکات سے ڈھانک لے۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - (محرره 31 مئی 1960 ء ) 24 خلافت کا نظام روزنامه الفضل ربوہ 4 جون 1960ء) قرآن شریف کی تعلیم اور سلسلۂ رسالت کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی رسول اور نبی کو بھیجتا ہے تو اس سے اس کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ ایک آدمی دنیا میں آئے اور ایک آواز دے کر واپس چلا جاوے۔بلکہ ہر نبی اور رسول کے وقت خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں ایک تغیر اور انقلاب پیدا کرے۔جس کے لئے ظاہری اسباب کے ماتحت ایک لمبے نظام اور مسلسل جدو جہد کی ضرورت