مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 49 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 49

مضامین بشیر جلد چهارم 49 پیغام کے ہیں۔کیونکہ عربی زبان میں قرآن اس بات کو کہتے ہیں جو دوسروں کو پہنچانے کے لئے کہی جائے۔اور قرآن کا یہ نام بھی اسی لئے رکھا گیا ہے اور وہ خدا کی طرف سے دنیا کے لئے آخری اور عالمگیر پیغام کی صورت میں نازل ہوا ہے جس کے بعد قیامت تک کے لئے کوئی اور شریعت نہیں۔البتہ مختلف زمانوں کی ضرورت کے مطابق قرآن کے نئے نئے علوم ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں گے۔اسی لئے خدا قرآن میں فرماتا ہے کہ: إِن مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُةٌ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (الحجر:22) یعنی ہمارے پاس قرآن میں علوم میں بے شمار خزانے موجود ہیں۔مگر ہم انہیں زمانہ کی ضرورت کے مطابق مقررہ وقت پر ظاہر کرتے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے۔در اصل قرآن ایک بڑی عجیب و غریب کتاب ہے۔اس کے ایک تو بالکل سادہ اور سطحی معنی ہیں جو عام مخلوق خدا کے عمل کے لئے ہیں۔اور انہی معنوں کے پیش نظر کہا گیا ہے کہ: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِكُرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرِ (القمر: 18) یعنی ہم نے عمل کے لئے قرآن کو بہت آسان صورت دے رکھی ہے تا کہ نصیحت پکڑنے والے لوگ اس پر عمل کرنے میں خوشی محسوس کریں۔لیکن قرآن کے بعض معانی بہت گہرے اور بہت وسیع ہیں جن تک صرف اس کی گہرائیوں میں غوطہ لگانے والے لوگ ہی پہنچ سکتے ہیں۔چنانچہ قرآن مجید کا یہ ارشادا نہی گہرے معانی سے تعلق رکھتا ہے کہ : لَّا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعه: 80) یعنی قرآن کی گہرائیوں تک صرف پاک وصاف دل والے لوگ ہی پہنچ سکتے ہیں۔اس طرح قرآن حقیقتا بڑی عجیب و غریب کتاب ہے جو ایک بڑے عالم و فاضل اور ایک فلسفی اور سائنسدان کے لئے بھی اسی طرح روشنی مہیا کرتی ہے جس طرح کہ وہ ایک سادہ ان پڑھ دیہاتی کو رستہ دکھاتی ہے۔پس کراچی کے انصار اللہ کے لئے اس وقت میرا یہی پیغام ہے کہ وہ قرآن کے گہرے مطالعہ کی عادت ڈالیں اور اس کی گہرائیوں میں غوطہ لگا کر ان بے بہا موتیوں کو دنیا کے سامنے لائیں جو اس زمانہ کے علم دوست لوگوں کی علمی پیاس بجھانے کے لئے ضروری ہیں۔حضرت مسیح موعود بائی سلسلہ احمد یہ اور آپ کے خلفاء کی تصنیفات ان علمی خزانوں سے بھری پڑی ہیں۔ان روشن اور چمکتے ہوئے جواہرات کو اندھیرے میں پڑے ہوئے لوگوں تک پہنچاؤ۔اور سائنس کی نئی نئی ایجادوں سے مت