مضامین بشیر (جلد 4) — Page 48
مضامین بشیر جلد چهارم 48 پیدا کرے۔اور اگر اس مضمون میں کوئی امر مزید وضاحت کا متقاضی ہے تو اس کی بھی توفیق عطا فرما دے۔(محرره 3 فروری 1960ء) روزنامه الفضل ربوه 12 فروری 1960ء) مجلس انصاراللہ کراچی کے سالانہ اجتماع پر پیغام انصار اللہ کا ہر فر دقرآن کا عالم اور قرآن کا خادم ہونا چاہئے حال ہی میں مجلس انصار اللہ کراچی کا جو سالانہ اجتماع منعقد ہو رہا ہے اس کے لئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو پیغام مرحمت فرمایا تھا وہ افادہ احباب کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے۔) برادران مجلس انصاراللہ کراچی ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ میں انصار اللہ کراچی کے سالانہ اجتماع کے موقع پر اپنی طرف سے کوئی پیغام بھجواؤں۔سو با وجود اس کے کہ آج کل میں بلڈ پریشر اور جسم کی دردوں وغیرہ کی تکلیف میں مبتلا ہوں آپ صاحبان کی مخلصانہ محبت اور حسن ظنی کی قدر کرتے ہوئے ان چند الفاظ میں اپنا مختصر سا پیغام بھجوا رہا ہوں۔جیسا کہ میں پہلے بھی بعض موقعوں پر بیان کر چکا ہوں مجھے کراچی کی جماعت سے بہت محبت ہے۔کیونکہ اول تو وہ خدا کے فضل سے ایک بہت مخلص اور بہت منظم جماعت ہے اور دوسرے جس طرح ربوہ اس وقت ہمارا روحانی مرکز ہے اسی طرح کراچی پاکستان کا سماجی اور تجارتی اور دنیوی لحاظ سے علمی مرکز ہے۔بلکہ ابھی تک وہ بڑی حد تک ملک کا سیاسی مرکز بھی ہے۔اس طرح یہ دونوں مقام اپنے اپنے رنگ میں گویا دل کے حکم میں ہیں۔اور چونکہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ کراچی کے دوست میری اس آواز کو توجہ اور گوش ہوش سے سنیں گے۔میرا موجودہ پیغام صرف قرآن اور قرآن کے لفظ میں مرکوز ہے۔بلکہ دراصل قرآن کے معنی ہی