مضامین بشیر (جلد 4) — Page 33
مضامین بشیر جلد چهارم 33 ہمدردی اور شفقت کا سلوک کرے گا اور اسے ہر جہت سے فائدہ پہنچانے کے لئے کوشاں رہے گا اور اسے کسی نوع کی تکلیف نہیں دے گا۔اس کا اپنا نمونہ اس بارے میں کیسا اعلیٰ اور کیسا شاندار ہونا چاہئے اور خدا کے فضل سے ایسا ہی تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بار ہافرمایا کرتے تھے کہ میں کسی شخص کا دشمن نہیں ہوں اور میرا دل ہر انسان اور ہر قوم کی ہمدردی سے معمور ہے۔چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں: میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔میں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے ایک والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔میں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بد عملی اور نا انصافی اور بداخلاقی سے بیزاری میرا اصول۔“ اربعین نمبر 1 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 344) یہ ایک محض زبانی دعوی نہیں تھا بلکہ آپ کی زندگی کا ہر ایک لمحہ مخلوق خدا کی ہمدردی میں گزرتا تھا اور دیکھنے والے حیران ہوتے تھے کہ خدا کا یہ بندہ کیسے ارفع اخلاق کا مالک ہے کہ اپنے دشمنوں تک کے لئے حقیقی ماؤں کی سی تڑپ رکھتا ہے۔چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جو آپ کے مکان ہی کے ایک حصہ میں رہتے تھے اور بڑے ذہین اور نکتہ رس بزرگ تھے روایت کرتے ہیں کہ جن دنوں پنجاب میں طاعون کا دور دورہ تھا اور بے شمار آدمی ایک ایک دن میں اس موذی مرض کا شکار ہورہے تھے انہوں نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو علیحدگی میں دعا کرتے سنا اور یہ نظارہ دیکھ کر جو حیرت ہو گئے۔حضرت مولوی صاحب کے الفاظ یہ ہیں کہ : اس دعا میں آپ کی آواز میں اس قدر درد اور سوزش تھی کہ سنے والے کا پتہ پانی ہوتا تھا۔اور آپ اس طرح آستانہ الہی پر گریہ وزاری کر رہے تھے کہ جیسے کوئی عورت در دزہ سے بے قرار ہو۔میں نے غور سے سنا تو آپ مخلوق خدا کے واسطے طاعون کے عذاب سے نجات کے واسطے دعا فرما ر ہے تھے اور کہہ رہے تھے الہی ! اگر یہ لوگ طاعون کے عذاب سے ہلاک ہو گئے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا۔“ (سیرت مسیح موعود شمائل و اخلاق حصہ سوم صفحہ 365 مؤلفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) ذرا غور کرو کہ آپ کے مخالفوں پر ایک عذاب الہی نازل ہو رہا ہے اور عذاب الہی بھی وہ جو ایک خدائی پیشگوئی کے مطابق آپ کی صداقت میں ظاہر ہوا ہے اور پیشگوئی بھی ایسی جس کے ٹلنے سے جلد بازلوگوں کی نظر میں آپ کی صداقت مشکوک ہو سکتی ہے۔مگر پھر بھی آپ مخلوق خدا کی ہلاکت کے خیال سے بے چین