مضامین بشیر (جلد 4) — Page 489
مضامین بشیر جلد چہارم 489 استغفار پڑھتے پڑھتے سو گئیں تو حضرت اماں جان رضی اللہ عنھا خواب میں ان کو ملیں اور تحریک فرمائی کہ ایسے وقت میں حضرت یونس والی دعاز زیادہ پڑھا کرو یعنی۔لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّلِمِينَ(الانبياء:88) 66 اسی طرح ایک دفعہ میرے بھانجے اور داماد عزیز میاں محمد احمد خان سلمہ خواب میں یہی دعا کر رہے تھے تو ہمارے بڑے ماموں جان حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ نے خواب میں ظاہر ہو کر اس دعا کے متعلق فرمایا کہ۔عجیب دعا ہے، عجیب دعا ہے، عجیب دعا ہے اسی طرح ایک دفعہ میری چھوٹی لڑکی عزیزہ امتہ اللطیف بیگم سلہما کو خواب میں کسی بزرگ نے ظاہر ہوکر نصیحت کی کہ یہ دعا بہت پڑھا کرو۔اور ممکن ہے بعض اور دوستوں نے بھی اس کے متعلق خواہیں دیکھی ہوں۔بہر حال یہ ایک انتہائی اضطراب کے وقت ایک نبی کی مانگی ہوئی دعا ہے جو خدا کے حضور قبول ہوئی۔پس دوستوں کو اس دعا سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔اور اگر غور کیا جائے تو دراصل یہ ایک بڑی جامع دعا ہے کیونکہ اس میں خدا کی تو حید اور تسبیح اور بندے کی عاجزی اور کمزوری اور گناہوں کے اقرار اور استغفار کا مفہوم بھی شامل ہے۔پس۔اے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما ( محررہ 9 فروری 1963ء) روزنامه الفضل 12 فروری 1963ء) دوستوں کیلئے دعا کی تحریک اُس حسنِ ظنی کی وجہ سے جو جماعت کے مخلصین کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے ہے کئی دوست اس عاجز عاصی کو دعا کے لئے لکھتے رہتے ہیں اور طبعا یہ سلسلہ رمضان کے مہینہ میں زیادہ ہو جاتا ہے۔میرا طریق ہے کہ مختصرسی دعا تو دوستوں کی طرف سے خط موصول ہوتے ہی کر دیتا ہوں اور اس کے بعد جب مزید دعا کا موقع ملتا ہے تو دعا کرتا ہوں۔لیکن کچھ عرصہ سے میری طبیعت اتنی علیل اور کمزور ہو چکی ہے کہ دعا کے لئے جس توجہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ آجکل نسبتا کم میسر آتی ہے اور حافظہ بھی بہت کمزور ہو چکا ہے گو عمومی دعائیں بہر حال جاری رہتی ہیں۔