مضامین بشیر (جلد 4) — Page 344
وو مضامین بشیر جلد چہارم 344 بیوی سے عطا کرے گا جس سے آپ کو خواہش ہے۔مگر شرط یہ ہے کہ آپ زکریا والی تو بہ کریں منشی عطا محمد صاحب بیان کرتے تھے کہ میں چونکہ دین سے بالکل بے بہرہ تھا میں نے ایک واقف کار احمدی سے پوچھا کہ زکریا والی تو بہ سے کیا مراد ہے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ ذکر یا والی تو بہ سے یہ مراد ہے کہ ” بے دینی چھوڑ دو حلال کھاؤ نماز روزہ کے پابند ہو جاؤ۔اور مسجد میں زیادہ آیا جایا کرو۔چنانچہ میں نے کچی نیت سے تو بہ کر کے اس نصیحت پر عمل کرنا شروع کیا اور میری حالت دیکھ کر لوگ تعجب کرتے تھے کہ اس ”شیطان پر کیا جادو چلا ہے کہ اس نے ساری بدیوں سے یک لخت تو بہ کر لی ہے۔اس پر چار پانچ ماہ کا عرصہ گزرا ہوگا کہ میں ایک دن گھر گیا تو اپنی بڑی بیوی کو روتے ہوئے پایا۔میں نے سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ پہلے تو صرف یہی مصیبت تھی کہ اولاد نہیں ہوتی تھی اور آپ نے میرے اوپر دو بیویاں کیں۔اب دوسری مصیبت یہ شروع ہو گئی ہے کہ میرے ایام ماہواری بند ہو گئے ہیں اور اولاد کی امید بالکل ہی باقی نہیں رہی۔میں نے کہا تم کسی دائی کو بلا کر دکھاؤ تا کہ وہ کوئی دوائی دے اور ایام ماہواری پھر سے جاری ہو جائیں۔چنانچہ اس نے ایک دائی کو بلایا جس نے اسے دیکھ کر سخت حیرانی کے ساتھ کہا کہ میں تو تجھے ہاتھ نہیں لگاتی کیونکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا تیرے اندر بھول گیا ہے اور تیرے پیٹ میں بچہ ہے۔حالانکہ تو تو بانجھ تھی۔چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد حمل کے پورے آثار ظا ہر ہو گئے اور میں نے لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ دیکھ لینا اب میرے گھر لڑکا پیدا ہوگا اور ہوگا بھی خوبصورت اور صاحب اقبال۔آخر ایک دن رات کے وقت میری بڑی بیوی کے گھر بچہ پیدا ہوا جو بہت خوبصورت تھا۔میں اسی وقت قادیان کی طرف بھاگ گیا اور میرے ساتھ کئی اور لوگ بھی قادیان گئے اور ہم نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیٹر کا جس کا نام شیخ عبدالحق ہے خدا کے فضل سے اب تک زندہ ہے اور بہت مخلص احمدی ہے اور ایک معمولی دیہاتی پٹواری کے گھر میں پیدا ہونے کے باوجود خدا نے اسے ایسا با اقبال کیا کہ ایگزیکٹو انجینئر کے معزز عہدہ تک پہنچ گیا اور خدا کے فضل سے خوش شکل اور خوب رو بھی ہے۔اور ہماری جماعت کے ہزاروں لاکھوں آدمیوں نے اسے دیکھا ہوگا۔دوست غور کریں کہ یہ کتنا غیر معمولی نشان قدرت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کی برکت سے ظاہر ہوا۔بچے تو دنیا میں پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں۔اور بعض اوقات شادی کے کئی کئی سال بعد پیدا ہوتے ہیں مگر اس واقعہ میں یہ غیر معمولی خصوصیت ہے کہ یہ بچہ بعینہ اُن چار شرائط کے مطابق پیدا ہوا جو