مضامین بشیر (جلد 4) — Page 325
مضامین بشیر جلد چهارم 325 مذاہب عالم کا یہ عظیم الشان جلسہ 26 - 27 - 28 اور 29 دسمبر (1896ء) کی تاریخوں میں لاہور میں منعقد ہوا اور اس میں اسلام اور مسیحیت اور ہندو مذہب اور سناتن دھرم اور آر یہ مذہب اور سکھ مذہب اور بر ہمو سماج اور فری تھنکر اور تھیو سافیکل سوسائٹی وغیرہ کے نمائندوں نے اپنے اپنے عقائد اور خیالات بیان کئے اور سات آٹھ ہزار کی عظیم الشان نمائندہ پبلک نے جس میں ہر طبقے اور ہر ملت کے تعلیم یافتہ اصحاب شامل تھے جلسہ میں شرکت کی اور سب مقررین نے اپنے اپنے مذاہب اور اپنے اپنے نظریات کی خوبیاں سجا سجا کر بیان کیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لکھا ہوا مضمون حضور کے ایک مخلص حواری حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے بلند اور بارعب آواز سے پڑھ کر سنایا اور اس وقت اس مضمون کی تاثیر کا یہ عالم تھا کہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بیان کرتے ہیں دوست خود انہی کے الفاظ میں سنیں۔حضرت بھائی صاحب فرماتے ہیں کہ۔میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ ہندو اور سکھ بلکہ کٹر آریہ سماجی اور عیسائی تک بے ساختہ سبحان اللہ سبحان اللہ پکار رہے تھے۔ہزاروں انسانوں کا یہ مجمع اس طرح بے حس وحرکت بیٹھا تھا کہ جیسے کوئی بے جان بت ہو۔اور اگر ان کے سروں پر پرندے بھی آ بیٹھتے تو تعجب کی بات نہ تھی۔مضمون کی روحانی کیفیت دلوں پر حاوی تھی۔اور اس کے پڑھنے کی گونج کے سوالوگوں کے سانس تک کی بھی آواز نہ آتی تھی حتی کہ قدرت خداوندی سے اُس وقت جانور تک بھی خاموش تھے اور مضمون کے مقناطیسی اثر میں کوئی خارجی آواز رخنہ انداز نہ ہو رہی تھی۔کاش! میں اس لائق ہوتا کہ جو کچھ میں نے اس وقت دیکھا اور سنا اس کا عشر عشیر بھی بیان کر سکتا کوئی دل نہ تھا جو اس لذت و سرور کومحسوس نہ کرتا تھا۔کوئی زبان نہ تھی جو اس کی خوبی و برتری کا اقرار و اعتراف نہ کرتی تھی۔نہ صرف یہی بلکہ ہم نے اپنے کانوں سے سنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کئی ہندو اور سکھ صاحبان مسلمانوں کو گلے لگا لگا کر کہہ رہے تھے کہ اگر یہی قرآن کی تعلیم اور یہی اسلام ہے جو آج مرزا صاحب نے بیان فرمایا ہے تو ہم لوگ آج نہیں تو کل اسے قبول کرنے پر مجبور ہوں گے“ اصحاب احمد جلد 9 از صفحه 252 تا 261) اس مضمون کے متعلق حضرت منشی جلال الدین صاحب بلا نوی مرحوم جنہوں نے جلسہ میں پڑھے جانے کے لئے اس مضمون کی صاف نقل تیار کی تھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ۔” میں نے اس مضمون کی سطر سطر پر دعا کی ہے (اصحاب احمد جلد نهم صفحہ 265)