مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 205 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 205

مضامین بشیر جلد چہارم 205 صراحت فرمائی ہے کہ بے شک گزشتہ زمانہ میں بھی کوئی ذوالقرنین گزرا ہو گا مگر اس زمانہ میں پیشگوئی کے رنگ میں ذوالقرنین سے مسیح موعود یعنی میں خود مراد ہوں جو دجالی طاقتوں سے مقابلہ کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔اسی لئے آپ نے چندوں کے بارے میں اتنی تاکید فرمائی ہے کہ ایک اشتہار کے ذریعہ اعلان فرمایا کہ جو شخص احمدیت کا عہد باندھ کر پھر تین ماہ تک الہی سلسلہ کی خدمت کے لئے کوئی چندہ نہیں دیتا اس کا نام بیعت کنندگان کے رجسٹر سے کاٹ دیا جائے گا۔اسی طرح حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھی چندوں کی ادائیگی کے متعلق انتہائی تاکید فرماتے رہتے ہیں اور اس بارے میں بسا اوقات اتنی گھبراہٹ کا اظہار فرماتے ہیں کہ بعض اوقات میرے کمزور دل میں خیال گزرتا رہا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ و پھر تحریک اور تاکید تو بے شک بجا ہے مگر حضرت صاحب اتنی گھبراہٹ کا اظہار کیوں فرماتے ہیں؟ لیکن پھر ایسے موقع پر مجھے غزوہ بدر کا وہ واقعہ یاد آجاتا ہے جب خدائی وعدہ کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اتنی گھبراہٹ اور بے چینی کی حالت میں دعا فرماتے تھے کہ آپ کی چادر مبارک آپ کے کندھوں سے گر گر جاتی تھی اور حضرت ابو بکر آپ کی تکلیف کا خیال کر کے آپ سے عرض کرتے تھے کہ حضور جب خدا کا وعدہ ہے کہ وہ بہر حال نصرت فرمائے گا اور غلبہ دے گا تو آپ اتنے گھبراتے کیوں ہیں؟ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ ایک طرف خدا کا وعدہ ہے تو دوسری طرف خدا کا غنا ذاتی بھی ہے اور پھر خدا کی حکیمانہ قدرت نے دنیا میں اسباب وصل کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہے۔فَكَانَ الرَّسُولُ أَعْلَمُ اور رسول اللہ کا علم و عرفان بہر حال بہتر اور افضل تھا۔اسی طرح عقلاً بھی چندوں کی غیر معمولی اہمیت ظاہر وعیاں ہے کیونکہ سلسلہ اسباب و علل کے ماتحت ہر کام کو چلانے کے لئے روپے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بغیر کوئی کام سرانجام نہیں پاسکتا۔خدمت دین کے اہم رکن تبلیغ اور تعلیم اور تربیت اور تنظیم ہیں اور ان سب کے لئے بھاری اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ضرورت موجودہ زمانے میں جب کہ صداقت کے مقابلہ پر باطل کی طاقتیں بے انتہا ساز و سامان اور ان گنت مال وزر سے آراستہ ہیں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) شرک کے بھاری فتنہ اور اس کے مقابل پر توحید کی بے انتہا اہلیت کے پیش نظر فرمایا کرتے تھے اگر کوئی شخص مجھ پر سچے دل سے ایمان لاکر لا إلهَ إِلَّا الله کی حقیقت پر قائم ہو جائے تو وہ خدا کے فضل سے جنت میں جائے گا۔وَ اِن زَنَى وَإِنْ سَرَقَ۔ہم جو رسول پاک کے ادنیٰ خادم بلکہ خاک پاہیں تحدی کے