مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 204 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 204

مضامین بشیر جلد چهارم اللہ آج کی دعاؤں میں سے بعض قبولیت کا شرف پائیں گی۔و نرجوا من الله 204 خطبہ جمعہ کے دوران جن الفاظ میں مکرم مشمس صاحب نے دعائیں کیں وہ الفضل میں دیکھی جاسکتی ہیں۔(روز نامه الفضل ربوه 22 مارچ 1961ء)۔۔۔۔۔۔۔13 چندوں کے متعلق جماعت کی اہم ذمہ داری مالی خدمت دین کا نصف حصہ ہے میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ اس زمانہ میں خصوصاً اور ویسے عموما مالی خدمت دین کا نصف حصہ ہے۔اسی لئے قرآن مجید نے اپنی ابتداء میں ہی جو صفت متقیوں کی بیان فرمائی ہے اس میں ان کی ذمہ داریوں کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره:4) یعنی متقی تو وہ ہیں جو ایک طرف تو خدا کی محبت میں اس کی عبادت بجالاتے ہیں اور دوسری طرف اپنے خدادا در زق سے دین کی خدمت میں خرچ کرتے ہیں۔اس اہم آیت میں گویا دینی فرائض کا پچاس فیصدی حصہ انفاق فی سبیل اللہ کو قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے جہاں جہاں اعمالِ صالحہ کی تلقین فرمائی ہے وہاں ہر مقام پر لاز ما صلوۃ اور زکوۃ کو خاص طور پر نمایاں کر کے بیان کیا ہے۔اسی طرح موجودہ زمانہ میں چندوں کی اہمیت اس بات سے بھی ثابت ہے کہ جہاں خدا تعالیٰ نے سورۃ کہف میں ذوالقرنین کا ذکر فرمایا ہے وہاں اس کی زبان سے یہ الفاظ کہلوائے ہیں کہ : اتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ (الكهف: 97) یعنی اے لوگو مجھے دھات کے ٹکڑے لا کر دو تا کہ میں تمہارے مخالفوں کے حملہ کے خلاف ایک دیوار کھڑی کر دوں۔اس جگہ استعارہ کے طور پر دھات کے ٹکڑوں سے چاندی سونے کے سکے مراد ہیں جو دین کے کاموں کو چلانے کے لئے ضروری ہیں اور سب دوست جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے