مضامین بشیر (جلد 4) — Page 169
مضامین بشیر جلد چهارم 169 بیانیوں اور افتراء پردازیوں سے باز رہنے کی نصیحت فرمائی مگر ان کی ناپاک روش میں فرق نہ آیا۔انہی دنوں کے قریب قادیان میں طاعون کی وبا پھوٹی اور حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر پیشگوئی فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مجھے طاعون سے محفوظ رکھے گا اور اسی طرح میرے گھر کے اندر رہنے والے لوگ بھی طاعون سے محفوظ رہیں گے۔چنانچہ اس بارے میں خدائی وحی کے الفاظ یہ تھے کہ اپنی أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ (کشتی نوح) یعنی میں جو زمین و آسمان کا خدا ہوں تیری اور تیرے گھر کی چاردیواری کے اندر رہنے والے تمام لوگوں کی طاعون سے حفاظت کروں گا۔مگر خدا بُرا کرے تعصب کا کہ وہ انسان کی آنکھوں پر عداوت کی پٹی باندھ کر اسے اندھا کر دیتا ہے۔چنانچہ جب اخبار شجھ چنک کے ایڈیٹر اور مینجر وغیرہ نے یہ پیشگوئی سنی تو غرور میں آکر اور جوشِ عداوت میں اندھے ہو کر اچھر چند مینجر اخبار شجھ چنک نے کہا یہ بھی کوئی پیشگوئی ہے۔میں کہتا ہوں میں بھی طاعون سے محفوظ رہوں گا“۔اس کے چند دن بعد ہی قادیان میں طاعون نے زور پکڑا اور اخبار شبھ چنتک کے سارے رکن اس موذی مرض میں مبتلا ہو گئے۔اور جب ان میں سے اچھر چند جس نے یہ بڑا بول بولا تھا اور اس کا ساتھی بھگت رام مر گئے اور سومراج ایڈیٹر شبھ چنتک ابھی بیمار پڑا تھا تو اس نے گھبرا کر قادیان کے ایک قابل احمدی حکیم مولوی عبید اللہ صاحب بہل مرحوم کو کہلا بھیجا کہ میں بیمار ہوں آپ مہربانی فرما کر میرا علاج کریں۔مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں ایک عریضہ لکھ کر پوچھا کہ سومراج ایڈیٹر شبھ چنتک طاعون سے بیمار ہے اور اس نے مجھے سے علاج کرنے کے لئے درخواست کی ہے حضور کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے؟ حضرت مسیح موعود نے جواب میں فرمایا: آپ علاج ضرور کریں کیونکہ انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے۔مگر میں آپ کو بتائے دیتا ہوں کہ یہ شخص بچے گا نہیں۔“ چنانچہ بسمل صاحب کے ہمدردانہ علاج کے باوجود سومراج اسی شام کو یا اگلے دن مرکز اپنے بدنصیب ساتھیوں سے جا ملا۔(احکام 10 اپریل 1907 بشمول روایت مرزا سلام اللہ بیگ صاحب) اس عجیب وغریب واقعہ میں دو عظیم الشان سبق ہیں۔ایک سبق حضرت مسیح موعود کی غیر معمولی انسانی ہمدردی کا ہے کہ اپنے اشد ترین مخالف اور بدترین دشمن کے علاج کے لئے اپنے ایک مرید کو ہدایت فرمائی اور دوسرا سبق خدائی غیرت کا ہے کہ ادھر ان لوگوں نے حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی پر ہنسی اڑائی بلکہ ان میں