مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 168 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 168

مضامین بشیر جلد چهارم 168 کی مخالفت میں ہر آن ترقی کرتی گئی۔اس قوم کا ایک فرد قادیان میں رہتا تھا جس کا نام لالہ شرم پت تھا۔لالہ صاحب حضرت مسیح موعود سے اکثر ملتے رہتے تھے اور آپ کی بہت سی پیشگوئیوں کے گواہ تھے۔مگر جب بھی حضرت مسیح موعود نے ان کو شہادت کے لئے بلایا انہوں نے پہلو تہی کی۔یعنی نہ تو اقرار کی جرأت کی اور نہ انکار کی ہمت پائی۔مگر کٹر آریہ ہونے کے باوجود حضرت مسیح موعود ان کا بہت خیال رکھتے تھے اور بڑی ہمدردی فرماتے تھے۔شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مرحوم روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ لالہ شرم پت صاحب بہت بیمار ہو گئے اور ان کے پیٹ پر ایک خطرناک قسم کا پھوڑا نکل آیا اور وہ سخت گھبرا گئے اور اپنی زندگی سے مایوس ہونے لگے۔جب حضرت مسیح موعود کو ان کی بیماری کا علم ہوا تو حضور خود ان کی عیادت کے لئے ان کے تنگ و تاریک مکان پر تشریف لے گئے اور انہیں تسلی دی اور ان کے علاج کے لئے اپنے ڈاکٹر کو مقرر کر دیا کہ وہ لالہ صاحب کا باقاعدگی کے ساتھ علاج کریں۔ان ڈاکٹر صاحب کا نام ڈاکٹر محمد عبداللہ تھا اور قادیان میں اس وقت وہی اکیلے ڈاکٹر تھے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود ہر روز لالہ صاحب کی عیادت کے لئے ان کے مکان تشریف لے جاتے رہے۔ان ایام میں لالہ شرم پت صاحب کی گھبراہٹ کی یہ حالت تھی کہ اسلام کا دشمن ہونے کے باوجود جب بھی حضور ان کے پاس جاتے تھے وہ حضور سے عرض کیا کرتے تھے کہ حضرت جی ! میرے لئے دعا کریں اور حضرت مسیح موعود ہمیشہ ان کو تسلی دیتے تھے اور دعا بھی فرماتے تھے۔حضرت مسیح موعود کی یہ عیادت اس وقت تک جاری رہی کہ لالہ صاحب بالکل صحت یاب ہو گئے۔(شمائل حضرت مسیح موعود مصنفہ عرفانی صاحب) دوست غور کریں کہ اس سے بڑھ کر ایک دشمن قوم کے فرد کے ساتھ رواداری اور ہمدردی اور دلداری کا سلوک کیا ہوسکتا ہے؟ 17۔قادیان کے آریوں کا ایک اور واقعہ بھی بڑا دلچسپ اور ایمان افروز ہے۔حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کے مطابق پنڈت لیکھرام کی موت واقع ہوئی تو آریہ قوم کی مخالفت اور بھی تیز ہوگئی اور قادیان کے آریوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ایک اخبار نکالنا شروع کیا جس کا نام ”شجھ چنتک تھا۔یہ اخبار جو تین کٹر آریہ سومراج اور اچھر چند اور بھگت رام باہم مل کر نکالتے تھے حضرت مسیح موعود اور جماعت احمدیہ کے خلاف گندے اعتراضوں اور گالیوں اور افتراؤں سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود نے اس پر ایک رسالہ قادیان کے آریہ اور ہم" کے نام سے لکھا اور ان لوگوں کو شرافت اور انصاف کی تلقین کی اور کذب