مضامین بشیر (جلد 4) — Page 153
مضامین بشیر جلد چهارم 153 اس تعلق میں ایک اور دلچسپ روایت بیان کرنا بھی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ عقیدہ تھا کہ مقتدی کے لئے نماز میں امام کے پیچھے بھی سورہ فاتحہ پڑھنی ضروری ہے اور آپ اس کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے۔کیونکہ سورہ فاتحہ قرآن عظیم کا خلاصہ ہے اور قرآن سے آپ کو عشق تھا۔ایک دفعہ آپ اپنی ایک مجلس میں بڑے زور کے ساتھ اپنے اس عقیدہ کا اظہار فرمارہے تھے کہ حاضرین مجلس میں سے کسی نے عرض کیا کہ حضور ! کیا سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ؟ اس پر حضرت مسیح موعود نے اس طرح رک کر کہ جیسے ایک چلتی ہوئی گاڑی کو بریک لگ جاتی ہے جلدی سے فرمایا: و نہیں نہیں۔ہم ایسا نہیں کہتے کیونکہ حنفی فرقہ کے کثیر التعداد بزرگ یہ عقیدہ رکھتے رہے ہیں کہ نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی تلاوت ضروری نہیں۔اور ہم ہرگز یہ خیال نہیں کرتے کہ ان بزرگوں کی نماز نہیں ہوئی۔“ (سلسلہ احمدیہ وسیرۃ المہدی حصہ دوم) اس دلچسپ روایت سے جماعت احمدیہ کے نوجوانوں کو بلکہ غیر از جماعت لوگوں کو بھی یہ لطیف سبق حاصل ہوتا ہے کہ اپنے عقیدہ پر قائم رہتے ہوئے بھی مختلف الخیال نیک لوگوں کا ادب ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔بزرگوں کا قول ہے اور یہ فقرہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبانِ مبارک پر بھی کثرت کے ساتھ آتا تھا کہ: الطَّرِيْقَةُ كُلُّهَا أَدَبٌ یعنی دین اور خوش اخلاقی کا سارا راستہ ادب کے میدان میں سے گزرتا ہے۔6 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صبر و استقلال بھی بے مثال نوعیت کا تھا۔آپ کو اپنے خدا داد مشن کی انجام دہی کے لئے جن غیر معمولی مشکلات میں سے گزرنا پڑا اور جن خاردار جنگلوں اور جن پر خطر وادیوں اور جن فلک بوس پہاڑوں کو طے کرنا پڑا وہ آپ کی زندگی کے ہر لمحہ میں ظاہر وعیاں ہیں۔آپ کی طرف سے ماموریت کا دعوی ہوتے ہی مخالفت کا ایسا طوفان اٹھا کہ الحفیظ وَالْآمَانُ۔یوں نظر آتا تھا کہ ایک چھوٹی سی کشتی میں ایک کمزور سا انسان اکیلا بیٹھا ہوا اسے گویا ایک تنکے کے ساتھ چلا رہا ہے اور طوفان کا زورا سے یوں اٹھا تا اور گراتا ہے کہ جس طرح ایک تیز آندھی کے سامنے ایک کاغذ کا پُرزہ ادھر اُدھر اڑتا پھرتا ہے۔مگر یہ شخص ہراساں نہیں ہوتا بلکہ خدا کی حمد کے گیت گاتا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا جاتا ہے۔اور اس کا دل اس یقین