مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 106 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 106

مضامین بشیر جلد چهارم 106 مجھ پر بھی اثر پڑتا ہے۔اور میں اپنی انتہائی خواہش کے باوجود اس رنگ میں دین کی خدمت نہیں کر سکتا جس کی میرے دل میں تڑپ ہے۔زائد از نصف صدی کی قریب ترین رفاقت کوئی معمولی چیز نہیں ہوتی۔اور ایک کی حالت کا دوسرے پر اثر پڑنا لازمی امر ہے اور میں تو ویسے بھی اب ضعیف اور کئی قسم کے عوارض میں مبتلا ہوں۔پس مخلصین جماعت اور صحابہ کرام ( جو افسوس ہے کہ اب دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں) سے درخواست ہے کہ وہ اتم مظفر احمد کے لئے خاص توجہ اور اور درد دل سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ان کو شفا دے اور میری پریشانی کو دور فرمائے۔آمِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ میری اولا د خدا کے فضل سے والدین کی خدمت گزار اور فرمانبردار ہے اور سلسلہ سے اخلاص رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہو۔ہماری زندگی میں بھی اور ہمارے بعد بھی۔اور انہیں ہمیشہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے در کا غلام رکھے۔کیونکہ اے ہمارے آسمانی آقا: وہ تیرے ہیں ہماری عمر تا چند نوٹ: اس خط کے لکھنے کے بعد اجابت ہوگئی ہے اور تکلیف میں کچھ افاقہ ہے گوضعف اب بھی بہت ہے۔(روز نامه الفضل ربوہ 14 اگست 1960 ء ) احباب کرام کا شکریہ ام مظفر احمد کی تشویشناک بیماری میں احباب کرام ( بہنوں اور بھائیوں دونوں ) نے جس رنگ میں ان کے آپریشن کی کامیابی اور ان کی صحت کی بحالی کے لئے دعائیں کیں اور ہمدردی اور محبت کا اظہار کیا اس پر میرا دل سب مخلصین کے لئے شکریہ کے جذبات سے لبریز ہے۔میں اپنے دوستوں پر فطرتاً بہت حسنِ ظن رکھتا ہوں لیکن حق یہ ہے کہ اس موقع پر انہوں نے میرے گمان سے بھی بڑھ کر محبت اور ہمدردی کا ثبوت دیا ہے۔فَجَزَاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ مجھے اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیاری حدیث یاد آرہی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ بچے مؤمن آپس میں ایک جسم کا رنگ رکھتے ہیں۔جب جسم کا کوئی عضو در دمحسوس کرتا ہے تو سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ جس طرح میری اس تکلیف اور پریشانی میں مخلصین جماعت نے محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور دعائیں فرمائیں اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کی تکلیفوں اور پریشانیوں میں بھی ان کا