مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 83 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 83

مضامین بشیر جلد چهارم 83 کیونکہ ایسے امور میں ذرا سی ٹھو کر بدعت کا راستہ کھول سکتی ہے۔اس تحقیق میں لازماً قرآن مجید اور احادیث نبوی اور سنتِ صحابہ کے علاوہ ائمہ فقہ کے اقوال کی چھان بین کرنی ضروری ہوگی۔اور جہاں تک جماعتِ احمدیہ کا تعلق ہے فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے زمانہ کی سنت کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا۔علاوہ ازیں اس مسئلہ کے جغرافیائی پہلو کے متعلق ماہر ریاضیات عزیزم مکرم پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب آف لندن بھی بہت مفید مشورہ دے سکتے ہیں۔بظاہر دونوں طرف کے دلائل کا خلاصہ بصورت ذیل سمجھا جا سکتا ہے: علاقائی رؤیت کے حق میں مکہ مکرمہ کی رؤیت کے حق میں (1) چونکہ اسلام نے عید الفطر اور عیدالاضحی ہر دو کو قمری نظام (1) حدیث میں صرف عید الفطر کے متعلق صراحت پر مبنی قرار دیا ہے۔اور قمری نظام لازماً علاقائی رؤیت ہلال آتی ہے کہ وہ شوال کا چاند دیکھ کر منائی جائے مگر سے تعلق رکھتا ہے۔اس لئے عید الاضحی کو کسی دوسری جگہ کی عید الاضحی کے متعلق ایسی کوئی صراحت نہیں پائی رؤیت سے خواہ وہ جگہ کتنی ہی اہم اور کتنی ہی مقدس ہو وابستہ جاتی۔نہیں کیا جا سکتا۔ورنہ یہ بات ایک مسلم اسلامی حکم میں نا واجب دخل اندازی ہوگی۔(2) اسلام نے عیدوں اور رمضان کو قمری نظام اور رویت (2) عیدالاضحی چونکہ حج کا تتمہ ہے اور حج مکہ مکرمہ ہلال کے ساتھ اس لئے وابستہ کیا ہے کہ اس میں سہولت کے ساتھ مخصوص ہے اور رمضان کی عبادت کی طرح عامہ کا پہلو مد نظر ہے جو دینِ متین کا ایک بنیادی اصول ہر بستی میں الگ الگ نہیں منایا جاتا اس لئے ہے۔تا کہ ہر علاقہ کے لوگ اپنے اپنے رؤیت کی بناء پر ( جو عید الاضحیٰ کے معاملہ میں مکہ مکرمہ کی رؤیت مقدم ایک بدیہی امر ہے ) یہ عبادتیں بجالا سکیں اور کسی قسم کی علمی یا ہونی چاہئے۔خارجی تحقیق کا سہارا نہ ڈھونڈنا پڑے۔(3) یہ خیال کہ حدیث میں صرف عید الفطر کے متعلق (3) مکہ مکرمہ کی رؤیت کی مطابقت اختیار کرنے صراحت آتی ہے کہ رمضان کا چاند دیکھ کر روزے شروع میں بھی بہر حال عید کی بنیاد قمری نظام پر قائم رہتی کرو اور شوال کا چاند دیکھ کر عید مناؤ مگر عید الاضحی کے متعلق ہے اور شریعت کے بنیادی اصول میں فرق نہیں پڑتا ایسی کوئی حدیث نہیں پائی جاتی ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔اور صرف علاقائی رؤیت اور مکہ مکرمہ کی رؤیت کا کیونکہ عید الفطر کے متعلق یہ صراحت اس لئے نہیں کی گئی کہ فرق پیدا ہوتا ہے۔یہ اصول صرف عید الفطر کے ساتھ مخصوص ہے۔بلکہ اس لئے کی گئی ہے کہ عید الفطر رویت ہلال کے معا بعد آتی ہے اور عیدالاضحیٰ دس دن کے وقفہ سے آتی ہے۔ورنہ جب عید الاضحیٰ بھی قمری نظام کے ساتھ وابستہ ہے تو لازماً اس کے متعلق بھی رؤیت ہلال کا اصول تسلیم کرنا پڑے گا۔