مضامین بشیر (جلد 4) — Page 76
مضامین بشیر جلد چهارم 76 حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی بیماری اور جماعت کی ذمہ داری اب حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی بیماری کے موجودہ دور پر ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مگر ابھی تک بیماری میں تخفیف کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہوئے۔بے شک بعض عوارض میں وقتی طور پر افاقہ کی صورت پیدا ہو جاتی ہے لیکن چند دن کے بعد پھر تکلیف اور بے چینی کا دور شروع ہو جاتا ہے اور بحیثیت مجموعی کمزوری بڑھ رہی ہے جو ایک لمبے عرصہ تک صاحب فراش رہنے کا طبعی نتیجہ ہے۔بے شک بیماری انسان کے جسمانی نظام کا کم و بیش لازمی حصہ ہے جس سے کوئی ابنِ آدم مستقلی نہیں مگر اس بیماری کا دوسرا پہلو بھی ناگزیر ہے کہ جماعت آج کل حضور کے پر معارف خطبات اور مجلسی مذاکرات اور خط و کتابت کے ذریعہ تربیتی اور تبلیغی تحریکات سے عملاً محروم ہے۔اور اسی طرح صدرانجمن احمدیہ کے ناظر صاحبان اور مجلس تحریک جدید کے وکلا ء صاحبان کے کام کی بھی اس رنگ میں نگرانی نہیں ہو رہی جو حضور اپنی صحت کی حالت میں فرمایا کرتے تھے۔وہ سب باتیں جماعتی نقطہ نگاہ سے شدید خطرات کے پہلو ہیں جس کی طرف سے ایک الہی جماعت کو کسی صورت میں غافل نہیں ہونا چاہئے۔بے شک جماعت حضور کی صحت کے لئے بڑے درد والحاح سے دعائیں کر رہی ہے ( گو میں کہتا ہوں کہ نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز ) اور سنتِ نبوی کے ماتحت صدقے بھی کئے جارہے ہیں۔مگر جماعت کی ذمہ داری صرف دعاؤں اور صدقات پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کا فرض ہے کہ امام کی بیماری کے پیش نظر امام کی نگرانی اور امام کی ہدایات اور امام کی روح پرور تحریکات کی کمی کو جہاں تک ہو سکے مزید جد و جہد اور مزید سعی و کاوش اور مزید قربانی و فدائیت کے ذریعہ پورا کرنے کی کوشش کرے۔اسلام کا سارا نظام تقدیر وتد بیر کی دوہری تاروں کی عجیب و غریب آمیزش پر مبنی ہے۔اس لئے محض تقدیر کے بھروسہ پر بیٹھ رہنا سچے مسلمانوں کا شیوا نہیں۔ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اِعْقَلُ ثُمَّ تَوَكَّلُ۔یعنی پہلے اونٹ کا گھٹا باندھوا اور پھر تو کل کرو۔اور اسی حدیث کی تشریح میں مولانا رومی فرماتے ہیں : توکل زانوئے اشتر بند پس اب جبکہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز وَ مَتِّعْنَا بِطُول حَيَاتِهِ کی موجودہ