مضامین بشیر (جلد 4) — Page 75
مضامین بشیر جلد چهارم 75 کرنی چاہئے کہ اگر خدانخواستہ کوئی تباہ کن جنگ خدا کے علم میں مستقبل قریب میں مقدر ہے اور اگر انسانیت کا کوئی حصہ اپنی غلط روی کی وجہ سے اس تباہی کو دعوت دے رہا ہے تو اللہ تعالیٰ اس تباہی کے اثرات سے اسلام اور پاکستان کو محفوظ رکھے۔بلکہ اس حکیمانہ شعر کے مطابق اسے ہمارے لئے ترقی کا موجب بنا دے کہ : خدا شتری بر انگیزد که خیر مادر آن باشد ہمیں یہ دعا آج کل بڑے الحاح اور در دو سوز سے کرنی چاہئے۔بے شک جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے ہماری جماعت ایک خاص مذہبی جماعت ہے جسے سیاست سے کوئی سروکار نہیں۔اور ہم کسی ملک اور کسی قوم کے دشمن نہیں۔مگر ہمارا مذ ہب ہمیں یہ حکم دیتا ہے کہ ہم ایسے موقعوں پر ایسے معاملات میں جن کی ظاہری تدبیر ہمارے ہاتھ میں نہ ہو روحانی ذرائع یعنی دعاؤں کے تیروں سے کامیابی اور ترقی کا راستہ کھولنے کی کوشش کریں کیونکہ ہمارے خدا کو ہر قدرت حاصل ہے۔اور فتح و ظفر کی ہر کلید خدا کے ہاتھ میں ہے۔جس کی زبر دست تقدیر کے مقابلہ پر دنیا کے ظاہری اسباب کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ: ے قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے اسی لئے قرآن مجید بڑی وضاحت اور تحدی کے ساتھ فرماتا ہے کہ: كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةٌ بِإِذْنِ اللهِ (البقرة: 250) بس اس وقت دعا کی تحریک کے لئے یہ لکھنا کافی ہے اور مجھے علالت میں زیادہ لکھنے کی طاقت بھی نہیں۔وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيْمِ وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (محررہ 17 مئی 1960ء) روزنامه الفضل ربوہ 21 مئی 1960ء )