مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 74 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 74

مضامین بشیر جلد چهارم 74 رکھا ہے اور تازہ خبر یہ ہے کہ چار بڑے سربراہوں کی چوٹی کی کانفرنس جو پیرس میں امنِ عالم کی غرض سے منعقد ہو رہی ہے خطرے میں پڑ گئی ہے۔میں نے اس واقعہ کو معمولی سا واقعہ اس لئے نہیں لکھا کہ وہ حقیقتا معمولی ہے۔سیاسیات میں کوئی بات بھی حقیقتا اور لازماً معمولی نہیں ہوا کرتی۔بلکہ اس کا معمولی یا غیر معمولی اس ماحول پر منحصر ہوتا ہے جس میں کوئی واقعہ پیش آتا ہے۔یا اس کا دار و مداران ملکوں اور قوموں کی ذہنیت پر ہوتا ہے جن کے ساتھ ایسا واقعہ تعلق رکھتا ہے۔اگر ذہنیت اچھی اور مصلحانہ ہو تو بڑے بڑے حادثات بھی باہم گفت و شنید کے ذریعہ خوش اسلوبی کے ساتھ سلجھائے جاسکتے ہیں لیکن اگر نیت خراب یا معاندانہ ہو تو چھوٹے سے چھوٹا واقعہ بھی ہو ا بنا کر پیش کیا جا سکتا اور لڑائی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ویسے کون نہیں جانتا کہ آج کل اکثر ملک اپنی حفاظت کے خیال سے یا دوسرے ملکوں کی کمزوریوں سے واقفیت پیدا کرنے کے لئے مخالف ملکوں کے حالات اور ان کی فوجی تیاری سے باخبر رہنے کی غرض سے کسی نہ کسی رنگ میں خبر رسانی یا جاسوسی کا انتظام کیا کرتے ہیں۔یہ سیاسیات عالم کا ایک کھلا ہوا راز ہے جس کا امریکہ نے بڑی صاف دلی سے اعتراف کر لیا ہے۔مگر روس پھر بھی اس حادثہ کے پیش نظر دوسرے ملکوں کو دھمکی دیئے جا رہا ہے۔حالانکہ روس جانتا ہے کہ جس گناہ کا وہ دوسروں پر الزام رکھتا ہے وہ ایک ایسا عام گناہ ہے کہ خود اس کے اپنے ملک میں بھی کثرت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔فارسی کا ایک مشہور شعر ہے کہ : این گناہ ہیست که در شهر شما نیز کنند ے ابھی چند دنوں کی بات ہے کہ اخباروں میں یہ خبر چھپی تھی کہ حکومت سوئٹزرلینڈ نے اپنے روسی سفارت خانے کے دو افسروں کو اس الزام میں اپنے ملک سے نکال دیا ہے کہ وہ سوئٹزرلینڈ میں بیٹھے ہوئے روس کے حق میں جاسوسی کیا کرتے تھے۔غالبا ان دو روسی افسروں کے فوٹو بھی اخباروں میں چھپے تھے۔اور یہ اخباری خبر بھی بالکل تازہ ہے کہ مغربی جرمنی میں ایک بہت بڑی تعدا داشترا کی جاسوسوں کی مشرق کی طرف سے داخل ہو کر جاسوسی کا کام کر رہی ہے۔مگر ہمیں ان سیاسی بحثوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہمارا سیاست کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔لیکن بین الاقوامی فضا کو خراب ہوتے دیکھ کر ہمارا یہ مذہبی فرض ضرور ہے کہ ہم آج کل امنِ عالم کے لئے خاص طور پر دعائیں کریں اور ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ان دعاؤں میں اسلام اور پاکستان کی حفاظت کے پہلو کو خصوصیت سے ملحوظ رکھیں۔آئندہ جنگ اگر اور جب بھی ہوئی تو وہ زمانہ حال کی خطرناک ایجادوں کی وجہ سے بے حد تباہ کن ہوگی۔ہمیں دعا