مضامین بشیر (جلد 4) — Page 70
مضامین بشیر جلد چهارم 70 سوال یہ ہے کہ کیا نبی کریم ، صحابہ کرام یا ائمہ عظام میں سے کسی نے یوں کیا ؟ جب نہیں تو پھر کیا ضرورت ہے خوامخواہ بدعات کا دروازہ کھولنے کی ؟ ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ اس رسم کی کچھ ضرورت نہیں۔جو لوگ جنازہ میں شامل نہ ہو سکیں وہ اپنے طور پر دعا کریں یا جنازہ غائب پڑھیں۔“ (اخبار بدر 9 مئی 1960ء) موت فوت کے متعلق دوسری عام رسم قل کی ہے۔مگر یہ بھی ایک سراسر بدعت ہے جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفاء راشدین یا صحابہ کرام یا ابتدائی اولیاء وصلحاء عظام کے زمانہ میں قطعاً کوئی سند نہیں ملتی۔بلکہ یہ رسم یقیناً ایک بدعت ہے جو بعد میں مُلاں لوگوں نے اپنے فائدہ کے لئے ایجاد کر لی ہے۔اس کی تائید میں کوئی قرآنی آیت یا کوئی حدیث یا کسی صحابی یا کسی مستند مسلّمہ امام کا قول نہیں ملتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قل خوانی ( جو مرنے والے کی وفات کے بعد تیسرے دن کی جاتی ہے ) کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے۔ہمیں تعجب ہے کہ یہ لوگ ایسی باتوں پر امید کیسے باندھ لیتے ہیں۔دین تو ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے اس میں ان باتوں کا نام تک نہیں۔صحابہ کرام بھی فوت ہوئے کیا کسی کے قل پڑھے گئے؟ صد ہا سال کے بعد اور بدعتوں کی طرح یہ بھی ایک بدعت نکل آئی ہوئی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 605) الغرض قل کی رسم جو آج کل اتنی عام ہے کہ غیر از جماعت لوگوں میں مرنے والے کی وفات کے بعد اس کے وارثوں کی طرف سے لازماً مجلس قل کا اعلان ہو جاتا ہے۔یقینا یہ ایک بدعت سے زیادہ نہیں جس کی کوئی سند اسلامی شریعت میں نہیں ملتی۔اس لئے جماعت احمدیہ کے مردوں اور عورتوں کو اس سے قطعی پر ہیز کرنا چاہئے۔ورنہ وہ اس سیدھے اور سادے اور پیارے مسلک کو کھو بیٹھیں گے جو ہمیں رسول پاک کے لائے ہوئے اسلام نے سکھایا ہے۔تیسری رسم چہلم کی ہے۔جس میں کسی عزیز یا دوست یا بزرگ کی وفات کے چالیسویں دن مجلس جمائی جاتی ہے اور کھانا پکا کر مرنے والے کے نام پر لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس رسم کی بھی قرآن و حدیث اور صحابہ کرام اور اولیاء عظام کے اقوال میں کوئی سند نہیں ملتی۔محض ایک رسم ہے جو اسلام کے سادہ اور دلکش چہرہ کو بگاڑ کر قائم کر لی گئی ہے جس سے مرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔مرنے والے کو صرف ان نیک اعمال کا اجر پہنچتا ہے جو اس نے اپنی زندگی میں خود کئے ہوتے ہیں یا ایسے اعمال کا ثواب پہنچتا ہے جو وہ