مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 69 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 69

مضامین بشیر جلد چهارم نئے سرے سے قائم کرے گا۔69 69 پس احمدی بھائیوں اور بہنوں کو اس قسم کی تمام غیر مسنون رسوم سے قطعی پر ہیز کرنا چاہئے ورنہ ہم پر نعوذ باللہ وہ مثل صادق آئے گی کہ چوں کفر از کعبه بر خیز دکجاماند مسلمانی۔“ گو میں اس قسم کی غیر اسلامی رسوم میں کبھی شامل نہیں ہوا ( اور میری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ میری نسل بلکہ حضرت مسیح موعود کی ساری نسل کو بھی ایسی غیر مسنون رسوم سے بچا کر رکھے اور ہمیشہ حقیقی اور پاک وصاف اسلام پر قائم رکھے ) مگر جو کچھ دوسروں سے ان رسوم کے متعلق سننے میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ فاتحہ خوانی کی رسم تو یہ ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے تو اس کے جنازہ اور تدفین وغیرہ کے بعد اس کے عزیز واقارب اور دوست و آشنا اور دور ونزدیک کے ملاقاتی مرنے والے کے مقام پر ہمدردی کے خیال سے وقتا فوقتا جاتے ہیں اور ہاتھ اٹھا کر ایک آدھ منٹ ہی میں ہاتھ نیچے کر کے یہ رسم ختم کر دیتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی جاتی ہے جسے فاتحہ خوانی کا نام دیا جاتا ہے۔یا کسی فوت شدہ عزیز یا بزرگ یا قومی لیڈر یا مذہبی رہنما کی قبر پر جا کر اس قسم کی رسمی فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔لیکن سارے قرآن کو دیکھ جاؤ اور ساری حدیثوں کو چھان ما رواور عہد نبوی اور زمانہ خلافت راشدہ کی ساری تاریخ کی ورق گردانی کر کے دیکھ لو اس قسم کی فاتحہ خوانی کا کوئی ثبوت بلکہ شائبہ تک نہیں ملتا۔بے شک مرنے والوں کے لئے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کرنا مسنون ہے خواہ یہ دعا گھر پر کی جائے یا قبر پر جا کر کی جائے لیکن سورۃ فاتحہ میں تو اپنے لئے دعا ہوتی ہے نہ کہ مرنے والے کے لئے۔اور پھر اسے اس قسم کی بے جان رسم کا رنگ دینا تو سراسر بدعت ہے جس کی ہماری شریعت میں کوئی سند نہیں ملتی۔کوئی شخص خیال کر سکتا ہے کہ جنازہ کی نماز میں بھی تو سورۃ فاتحہ پڑھی جاتی ہے لیکن اول تو وہ ایک با قاعدہ مسنون نماز کا حصہ ہے دوسرے اس میں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ خدایا! ہم اس صدمہ میں بھی تیرے شکر گزار رہتے ہوئے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہتے ہیں اور اپنے نیک انجام کے لئے تجھ سے دعا کرتے ہیں۔اس لئے جہاں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نماز جنازہ میں پہلی تکبیر کے بعد رکھی گئی ہے وہاں مرنے والے کے لئے دعا نماز جنازہ کی تیسری تکبیر کے بعد آتی ہے۔فاتحہ خوانی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: رسمی فاتحه خوانی درست نہیں یہ بدعت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں کہ اس طرح صف بچھا کر بیٹھتے اور فاتحہ خوانی کرتے تھے۔اور دوسری جگہ فرماتے ہیں: اخبار بدر 16 مارچ 1960ء )