مضامین بشیر (جلد 4) — Page 68
مضامین بشیر جلد چهارم 68 قدرت اللہ صاحب سنوری صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لڑکے مسعود احمد صاحب خورشید اور غالباً شیخ احمد گل صاحب پر اچھہ بھی حج کے لئے جا رہے ہیں۔اسی طرح شیخ رحمت اللہ صاحب آف لائل پور ( حال فیصل آباد) کے خاندان کے متعدد افراد بھی جا رہے ہیں اور ان کے علاوہ اور بھی کئی احباب جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔دوست سب کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اللہ تعالیٰ ان سب کا حافظ و ناصر ہو اور ان کے حج کوقبول فرمائے اور برکات کا موجب بنائے۔آمین (محرره 6 مئی 1960ء) روزنامه الفضل ربوہ 8 مئی 1960ء) فاتحہ خوانی اور قتل اور جہلم اور ختم قرآن کی رسوم ہماری جماعت کو ان رسوم سے اجتناب کرنا چاہئے کچھ عرصہ سے بلکہ غالباً چند صدیوں سے مسلمانوں میں بعض غیر مسنون رسوم راہ پاگئی ہیں جنہیں عام مسلمان اور خصوصاً اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے مسلمان اپنے بزرگوں اور عزیزوں اور دوستوں کی موت فوت کے مواقع پر ایسے رنگ میں اور اس پابندی کے ساتھ اختیار کرتے ہیں کہ گویا وہ اسلامی تعلیم اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا حصہ ہیں۔حالانکہ قرآن مجید اور حدیث رسول مقبول اور سنتِ خلفائے راشدین بلکہ بعد کے جلیل القدر ائمہ کے مبارک اسوہ میں ان کا نام ونشان تک نہیں ملتا۔ان رسوم میں خصوصیت کے ساتھ مرنے والوں پر فاتحہ خوانی اور قتل اور چہلم اور حلقہ باندھ کر ختم قرآن کی رسوم خاص طور پر بڑے اہتمام کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں اور انہیں نہ صرف موجب ثواب بلکہ ضروری خیال کیا جاتا ہے۔اور مجھے بعض خطوط سے معلوم ہوا ہے کہ کہ شاذ کے طور پر بعض ایسے کمزور اور ناواقف احمدی بھی (خصوصاً مستورات ) جنہیں روحانیت اور علم دین کے لحاظ سے گو یا بادیہ نشین کہنا چاہئے کبھی کبھی ماحول کے اثر کے ماتحت ایسی غیر مسنون رسوم میں مبتلا ہونے کی طرف جھک جاتے ہیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی اغراض میں سے ایک اہم غرض حضور کے الہاموں میں یہ بیان کی گئی ہے کہ: يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ یعنی مسیح موعود اسلام کے مٹتے ہوئے نقوش کو دوبارہ زندہ کرے گا اور شریعت کو اپنی اصل صورت میں