مضامین بشیر (جلد 4) — Page 60
60 60 مضامین بشیر جلد چهارم قریباً 80 سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے اس والہانہ جذبہ کے ساتھ کام کرتے تھے کہ دل سے دعا نکلتی ہے۔ان کا آخری کارنامہ پانچ ہزاری مجاہدین تحریک جدید کی کتاب کی تیاری اور اشاعت تھی۔ابھی چار پانچ دن کی بات ہے جبکہ وہ بے حد کمزور ہو چکے تھے اور گویا ان کے آخری سانس تھے۔انہوں نے میاں عزیز احمد صاحب ایم۔اے ناظر اعلیٰ کی زبانی مجھے یہ پیغام بھجوایا کہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی وفات سے جو خلاء تبلیغ کے میدان میں پیدا ہوا ہے اسے جس طرح بھی ممکن ہو پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔تا کہ سلسلہ کے تبلیغی کام میں روک نہ پیدا ہو۔میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ چوہدری برکت علی خان صاحب مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کی اولاد کو اپنے فضل ورحمت کے سایہ میں رکھے اور جماعت کو ان کا بدل عنایت کرے۔آمِنینَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔چوہدری صاحب کو جنازہ بھی ایسا نصیب ہوا جو بہت کم لوگوں کو میسر آتا ہے۔کیونکہ ایک تو جمعہ تھا اور دوسرے مشاورت کی وجہ سے بیرونی مہمان بھی بڑی کثرت سے آئے ہوئے تھے۔(محررہ 18 اپریل 1960 ء ) روزنامه الفضل ربوه 12 اپریل 1960 ء) ڈاکٹر بلی گراہم کو احمدی مبلغ کا چیلنج احمدیت نے ہوٹزم کا تار پود بکھیر دیا 12 اپریل 1960 ء کے اخبار نوائے وقت لاہور میں اس اخبار کے نمائندہ خصوصی حفیظ ملک صاحب مقیم واشنگٹن امریکہ کا ایک نوٹ شائع ہوا ہے جس میں حفیظ صاحب موصوف نے افریقہ میں تبلیغ اسلام کی ضرورت اور اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے مشرقی افریقہ میں مشہور مسیح مناد ” ڈاکٹر بلی گراہم کی آمد کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان علاقوں میں احمدیہ جماعت کی مساعی کے نتیجہ میں اسلام بڑی سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے۔اور یہ بھی لکھا ہے کہ جہاں باقی سب لوگ ڈاکٹر گراہم کی آمد پر خاموش رہے وہاں جماعت احمدیہ نے انہیں بڑی دلیری کے ساتھ چیلنج کیا۔مگر گرا ہم صاحب نے اس چیلنج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کنارہ کشی اختیار کی۔اس تعلق میں حفیظ ملک صاحب نے یہ جتا کر کہ جماعت احمد یہ ختم نبوت کی مخصوص