مضامین بشیر (جلد 4) — Page 52
مضامین بشیر جلد چهارم کے فرزند عزیز ناصر محمد سیال واقف زندگی کے ساتھ بیاہی گئی۔52 چوہدری صاحب مرحوم ایک بڑے مجاہد اور نڈر اور بہادر مبلغ ہونے کے علاوہ تہجد گزار اور نوافل کے پابند اور دعاؤں میں بہت شغف رکھنے والے بزرگ تھے اور صاحب کشف ور دیا بھی تھے۔میں جن دوستوں اور بزرگوں کو عموماً دعا کے لئے لکھا کرتا تھا ان میں چوہدری صاحب مرحوم کا نام بھی شامل تھا۔مجھے اس مخلص اور بے ریا اور وفادار بھائی کی وفات کا بڑا صدمہ ہے۔مگر : بلانے والا ہے سب اسی سے پیارا اے دل تو جاں فدا کر دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور جماعت کو ان کا بدل عطا فرمائے۔اور ان کی اولا داور بیوی اور دیگر لواحقین کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ روزنامه الفضل ربوہ یکم مارچ 1960ء) جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں کہیں سے آپ بقائے دوام لے ساقی حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب کی وفات کے متعلق میرا نوٹ الفضل میں چھپ چکا ہے۔یہ نوٹ میں ایک اور غرض سے لکھ رہا ہوں جو جماعتی ترقی سے تعلق رکھتی ہے۔کل جب مجھے چوہدری صاحب مرحوم کے جنازہ کی نماز پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی تو مجھے بعض خیالات کے غیر معمولی ہجوم کی وجہ سے نماز پڑھانی مشکل ہوگئی اور میں بڑی کوشش سے اور طبیعت پر زور دے کرمسنون دعائیں پڑھ سکا۔کیونکہ بار بار یہ خیال آتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحبت یافتہ لوگ گزرتے جاتے ہیں۔مگر ان کی جگہ لینے کے لئے نئے آدمی اس رفتار سے تیار نہیں ہور ہے جیسا کہ ہونے چاہئیں۔اور پھر جو نئے لوگ تیار ہو رہے ہیں وہ عموماً اس للمیت اور اس جذبہ خدمت کے مالک نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے لوگوں کا طرہ امتیاز رہا ہے۔بے شک بعض بہت قابلِ رشک نوجوان بھی پیدا ہور ہے ہیں مگر کثرت وقلت کا فرق اتنا ظاہر وعیاں ہے کہ کوئی سمجھدار شخص اس فرق کو محسوس کئے بغیر