مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 53 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 53

مضامین بشیر جلد چهارم 53 نہیں رہ سکتا۔بہر حال میرے دل و دماغ پر اس خیال نے اتنا غلبہ پایا کہ بعض اوقات میں نماز جنازہ میں مسنون دعاؤں کو بھول کر اس دعا میں لگ جاتا تھا کہ خدایا! تیری مُمِنیت والی صفت جب زندوں کو مار رہی ہے تو اپنے فضل و کرم سے اپنی مخینی والی صفت کے ماتحت مرنے والوں کی جگہ لینے کے لئے ہم میں ساتھ ساتھ زندہ وجود بھی پیدا کرتا چلا جاتا کہ جماعت میں کسی قسم کا خلایا کمزوری نہ آنے پائے اور اس کا قدم ہر آن ترقی کی طرف اٹھتا چلا جائے۔جنازہ کے دوران میں بلکہ تجہیز و تکفین کے دوران میں بھی میرا قریباً سارا وقت اسی فکر اور اسی دعا میں گزرا۔چنانچہ جو شعر اسی نوٹ کے عنوان میں درج کیا گیا ہے وہ بھی اصولی طور پر اس لطیف مضمون کا حامل ہے۔شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ اکٹھے بیٹھ کر شراب طہور پیا کرتے تھے وہ اب ایک ایک کر کے اٹھتے جاتے ہیں اور پرانی مجلس سونی ہوتی جا رہی ہے۔اب اس کا ایک ہی علاج ہے کہ اس مجلس میں بیٹھنے والوں کو کوئی ایسا آب حیات مل جائے جو ان پر موت کا دروازہ بند کر دے اور اس طرح یہ پاکیزہ مجلس ہمیشہ گرم رہے۔میں انہی خیالات میں سرگرداں تھا کہ میرے دل کی گہرائیوں سے یہ آواز اٹھی کہ اسلام نے یہ آب حیات بھی مہیا کیا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (آل عمران:170) یعنی جو لوگ خدا کے رستے میں زندگی گزارتے ہوئے فوت ہوں اور قربانی کی موت حاصل کریں ان کو ہرگز فوت شدہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں (اور ہمیشہ زندہ رہیں گے )۔اور ان کی زندگی کی علامت یہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی خدا کی طرف سے ان کو رزق مہیا کیا جاتا ہے جو انسانی زندگی کے بقا اور نشو ونما کا موجب ہے۔اس لطیف آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ شہداء کی زندگی نہ صرف اپنی ذات میں کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ ہر شہید کی موت بہت سے دوسرے لوگوں کی زندگی کا باعث بن جاتی اور جماعت کی غیر معمولی ترقی کا موجب ہوتی ہے۔اور جاننا چاہئے کہ جیسا کہ قرآن وحدیث میں صریح اشارات پائے جاتے ہیں کہ شہید سے صرف وہی شخص مراد نہیں جو کسی دینی لڑائی میں مارا جائے بلکہ ہر وہ شخص بھی شہیدوں میں داخل ہے جو (1) خدمتِ دین میں زندگی گزارتا ہوا فوت ہو۔(2) اور اس کا نمونہ بھی ایسا ہو کہ دوسروں کے لئے ترغیب وتحریص اور