مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 43 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 43

مضامین بشیر جلد چهارم نجات ان کو عطا کر گندگی برات ان کو عطا کر بندگی ނ رہیں خوشحال اور فرخندگی ނ بچانا اے خدا بد زندگی 43 وہ ہوں میری طرح دیں کے منادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي یقیناً ہماری کمزوریوں کے باوجود ہماری زندگیوں کی ہر برکت اپنی پاک دعاؤں کا ثمرہ ہے۔انسان کے اخلاق میں مہمان کا بھی ایک خاص مقام ہوتا ہے۔اس تعلق میں ایک مختصری بات کے بیان کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ایک بہت شریف اور بڑے غریب مزاج احمدی سیٹھی غلام نبی صاحب ہوتے تھے جو ر ہنے والے تو چکوال کے تھے مگر راولپنڈی میں دکان کیا کرتے تھے۔انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں حضرت مسیح موعود سے ملاقات کے لئے قادیان آیا۔سردی کا موسم تھا اور کچھ بارش بھی ہو رہی تھی۔میں شام کے وقت قادیان پہنچا تھا۔رات کو جب میں کھانا کھا کر لیٹ گیا اور کافی رات گزرگئی اور قریباً گیارہ بجے کا وقت ہو گیا تو کسی نے میرے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔میں نے اُٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت مسیح موعود کھڑے تھے۔ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا گلاس تھا اور دوسرے ہاتھ میں لائین تھی۔میں حضور کو دیکھ کر گھبرا گیا۔مگر حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا کہیں سے دودھ آ گیا تھا میں نے کہا آپ کو دے آؤں۔آپ یہ دودھ پی لیں۔آپ کو شائد دودھ کی عادت ہوگی اس لئے یہ دودھ آپ کے لئے لے آیا ہوں سیٹھی صاحب کہا کرتے تھے کہ میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے کہ سبحان اللہ کیا اخلاق ہیں! یہ خدا کا برگزیدہ پیج اپنے ادنی خادموں تک کی خدمت اور دلداری میں کتنی لذت پاتا اور کتنی تکلیف اٹھاتا ہے۔(سیرت المہدی حصہ دوم صفحہ 255) سیٹھی صاحب تو خیر مہمان تھے۔مجھے ایک صاحب نے سنایا کہ میں اپنی جوانی کے زمانہ میں کبھی کبھی حضرت مسیح موعود کے ساتھ خادم کے طور پر حضور کے سفروں میں ساتھ چلا جایا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود کا قاعدہ تھا کہ سواری کا گھوڑا مجھے دے دیتے تھے کہ تم پڑھو اور آپ ساتھ ساتھ پیدل چلتے تھے۔یا کبھی میں زیا داصرار کرتا تو کچھ وقت کے لئے خود سوار ہو جاتے تھے اور باقی وقت مجھے سواری کے لئے فرماتے تھے۔اور