مضامین بشیر (جلد 4) — Page 37
مضامین بشیر جلد چهارم 37 موعود علیہ السلام کی مخالفت میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان کی بڑی مسجد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے ایک مینار کی بنیا د رکھی تو قادیان کے ہندوؤں نے ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے پاس شکایت کی کہ اس مینار کی تعمیر روک دی جائے کیونکہ اس سے ہماری عورتوں کی بے پردگی ہوگی۔یہ ایک فضول عذر تھا کیونکہ اول تو مینار کی چوٹی سے کسی کو پہچاننا بہت مشکل ہوتا ہے اور پھر اگر کوئی بے پردگی تھی بھی تو وہ سب کے لئے تھی جس میں احمدی جماعت بھی شامل تھی۔بلکہ جماعت احمدیہ پر اس کا زیادہ اثر پڑتا تھا کیونکہ یہ مینار احمد یہ محلہ میں تھا۔مگر ڈپٹی کمشنر نے حکومت کے عام طریق کے مطابق ہندوؤں کی یہ شکایت تحصیل دار صاحب بٹالہ کے پاس رپورٹ کے لئے بھجوادی تحصیل دار صاحب قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود سے ملے اور مینار کی تعمیر کے متعلق حالات دریافت کئے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ہم نے یہ مینار کوئی سیر و تفریح یا تماشے کے لئے نہیں بنایا بلکہ محض ایک دینی غرض کے لئے بنایا ہے تا کہ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی پوری ہو اور تا ایک بلند جگہ سے اذان کی آواز لوگوں کے کانوں تک پہنچائی جائے اور روشنی کا انتظام بھی کیا جائے۔ورنہ ہمیں اس پر روپیہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔تحصیلدار صاحب نے کہا یہ ہند و صاحبان بیٹھے ہیں۔ان کو اس پر اعتراض ہے کہ ہمارے گھروں کی بے پردگی ہوگی۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا یہ اعتراض درست نہیں۔بلکہ ان لوگوں نے محض ہماری مخالفت میں یہ درخواست دی ہے ورنہ بے پردگی کا کوئی سوال نہیں۔اور اگر بالفرض کوئی بے پردگی ہے بھی تو وہ ہماری بھی ہے۔پھر آپ نے لالہ بڈھا مل کی طرف اشارہ کیا جو بعض دوسرے ہندوؤں کے ساتھ مل کر تحصیل دار صاحب کے ساتھ حضرت مسیح موعود کے پاس آئے تھے اور فرمایا کہ یہ لالہ بڈھا مل بیٹھے ہیں۔آپ ان سے پوچھیں کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ میرے لئے ان کو فائدہ پہنچانے کا کوئی موقع پیدا ہوا ہواور میں نے ان کی امداد میں دریغ کیا ہو۔اور پھر ان سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے نقصان پہنچانے کا انہیں کوئی موقع ملا ہو اور یہ نقصان پہنچانے سے رُکے ہوں۔حافظ روشن علی صاحب جو سلسلہ احمدیہ کے ایک جید عالم تھے بیان کیا کرتے تھے کہ اس وقت لالہ بڈھا مل پاس بیٹھے تھے مگر شرم اور ندامت کی وجہ سے انہیں جرات نہیں ہوئی کہ حضرت مسیح موعود کی بات کا جواب دینا تو درکنار حضور کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکیں۔حقیقت یہ مخالفوں اور ہمسایوں پر شفقت کی ایک شاندار مثال ہے۔سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 152 و 153 ) ہماری جماعت کے اکثر پُرانے دوست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چا زاد بھائیوں مرز امام دین اور مرزا نظام دین صاحبان کو جانتے ہیں۔یہ دونوں اپنی بے دینی اور دنیا داری کی وجہ سے حضرت مسیح موعود