مضامین بشیر (جلد 4) — Page 547
مضامین بشیر جلد چهارم کا نقص ہو تو افسر کو بر وقت توجہ دلا کر اس کی اصلاح کی جاسکے۔547 (5) ہمیشہ وقت مقررہ سے کچھ وقت پہلے امتحان کے کمرہ میں پہنچ جانا چاہئے اور امتحان کے دنوں میں حتی الوسع اپنے پاس گھڑی رکھنی چاہئے تا کہ وقت کا اندازہ رہے۔دیر کر کے پہنچنے سے بعض اوقات امتحان سے رہ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور بہر حال وقت کا ضائع جانا اورگھبراہٹ کا پیدا ہونا تو یقینی ہے۔(6) امتحان کے کمرہ میں داخل ہونے سے پہلے اپنی جیبوں وغیرہ کو اچھی طرح دیکھ کر اس بات کا اطمینان کر لینا چاہئے کہ کوئی کتاب یا نوٹ بک یا کاپی یا امتحان کے مضمون سے تعلق رکھنے والا کوئی کاغذ تمہارے پاس نہیں ہے۔اگر کوئی ایسی چیز تمہارے پاس ہو تو اسے باہر ہی چھوڑ آنا چاہئے۔یا امتحان کے سپرنٹنڈنٹ یا سپر وائزر کے پاس رکھ دینا چاہئے بعض اوقات غلطی سے کوئی قابل اعتراض چیز ساتھ چلی جاتی ہے اور پھر افسران کے نوٹس میں آنے پر امید وار مجرم قرار پاتا ہے۔(7) ہر امیدوار کو چاہئے کہ امتحان کیلئے جن چیزوں کا انتظام امیدوار پر چھوڑا گیا ہے وہ اچھی صورت میں مہیا کر کے امتحان کے کمرہ میں اپنے ساتھ لیتے جاویں عموماً د وعدہ ہولڈر، ایک سیسہ کی پنسل، ایک سرخ اور نیلی پنسل ، ایک چاقو اور بڑکا ٹکڑا، اور سامان نھی اپنے ساتھ لے جانا چاہئے ان کے علاوہ اگر کسی طالب علم کو اپنی عادت کے مطابق کسی اور چیز کی ضرورت محسوس ہو اور قواعد کی رو سے اس کا ساتھ لے جانا منع نہ ہو تو وہ بھی ساتھ رکھی جاسکتی ہے۔ہولڈروں کے نب ایسے ہونے چاہئیں جو پہلے سے کسی قدر استعمال کر کے رواں کر لئے جائیں نیز ڈرائینگ ، جیومیٹری، سائنس، جغرافیہ، تاریخ وغیرہ کے پرچوں میں طالب علموں کو چاہئے کہ اپنے ساتھ نقشہ کشی کا ضروری سامان لیتے جائیں اور جملہ شکلیں اور نقشے پوری احتیاط اور صفائی کے ساتھ تیار کریں۔سلائی اور سوزنی وغیرہ کے عملی امتحانوں میں بھی ضروری سامان ساتھ رکھنا چاہئے۔(8) دوران امتحان میں اگر کسی طالب علم کو کسی چیز کی ضرورت پیش آئے تو اسے چاہئے کہ اپنی جگہ کھڑا ہو کر منتظمین سے اپنی ضرورت بیان کر کے اپنی مطلوبہ چیز حاصل کر لے۔کسی صورت میں امتحان کے وقت کسی دوسرے امیدوار کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرنی چاہئے۔(9) بعض امید وار امتحان کے کمرہ میں جا کر اور سو پر وائزروں اور ممتحوں کے اجنبی چہروں کو دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔جس کا اثر لازماً ان کے امتحان پر پڑتا ہے۔یہ گھبراہٹ دراصل اعصابی کمزوری یا اجنبیت یا بزدلی کا نتیجہ ہوتی ہے مگر کوشش سے دور کی جاسکتی ہے۔طالب علموں کو چاہئے کہ پورے عزم کے ساتھ اس قسم کی گھبراہٹ کا مقابلہ کیا کریں اور اسے کبھی بھی اپنے دل پر غالب نہ ہونے دیں۔بلکہ اپنے اندر جرات اور