مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 545 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 545

مضامین بشیر جلد چهارم امتحان میں پاس ہونے کے گر 545 اکثر اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ طالب علم محنت کر کے امتحان کیلئے مقررہ کتا ہیں تو تیار کر لیتے ہیں لیکن امتحان دینے کے طریق اور فن کو نہیں جانتے۔اس کی وجہ سے بہت سے طالب علم با وجود تیاری کے امتحانوں میں فیل ہو جاتے ہیں۔یا کم از کم اتنے نمبر حاصل نہیں کر سکتے جو انہیں تیاری کے لحاظ سے حاصل کرنے چاہئیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امتحان پاس کرنا یا امتحان میں اعلیٰ نمبر لینا صرف علمی تیاری پر ہی منحصر نہیں ہے بلکہ اس کے لئے چند زائد باتیں بھی درکار ہیں جن کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔دراصل جو باتیں امتحان پاس کرنے یا اعلیٰ نمبر حاصل کرنے میں ممد و معاون ہیں ان میں سے بعض کے لحاظ سے امتحان دینے والے کی مثال ایک دکان دار کی سی ہے۔اگر ایک دکان دار کے پاس مال تو بہت ہے لیکن اس نے اپنے مال کو دوکان میں کسی اچھی ترتیب سے نہیں رکھا اور نہ ہی اس کی صفائی کا خیال کیا ہے بلکہ اس کا مال ایک انبار کی صورت میں بے ترتیبی اور ابتری کے ساتھ گردوغبار کے ساتھ ڈھکا ہوا ادھر ادھر پڑا ہے تو ایسا مال کبھی بھی خریدارکوخوش کرنے اور دکان میں کشش پیدا کرنے کا باعث نہیں ہوگا۔لیکن اگر خواہ مال تھوڑا ہو مگر وہ ایک ترتیب کے ساتھ سجا کر دکان میں رکھا جائے اور ہر چیز صاف اور ستھری صورت میں رکھی ہو تو باوجود وہ مال کے کم ہونے کے ایسی دکان گاہک کی خوشی اور کشش کا باعث ہوگی۔اسی طرح امتحان دینے والے طالب علم کا حال ہے اگر ایک امیدوار نے اپنے پرچے میں علم تو بہت بھر دیا ہے لیکن اس کے جوابات کا انداز ٹھیک نہیں، پرچے میں کوئی مؤثر ترتیب نہیں ، صفائی کا خیال نہیں ، خط خراب ہے، سطریں ٹیڑھی ہیں ، حاشیہ اچھا نہیں چھوڑا گیا اور دوسری ضروری باتوں کا خیال نہیں رکھا گیا تو باوجود اس کے کہ ایسے پرچے میں بہت کچھ علم ٹھونس دیا گیا ہوتو وہ متن کے دل پر اچھا اثر نہیں پیدا کرے گا۔لیکن دوسری طرف اگر ایک طالب علم کے جوابوں کا انداز اچھا ہے اس نے ترتیب کا خیال رکھا ہے، صفائی کی طرف توجہ دی ہے، اور خط صاف ہے اور سطریں سیدھی لکھی ہیں، حاشیہ اچھا چھوڑا ہے اور دوسری ضروری باتوں کا بھی خیال رکھا ہے تو باوجود علم کی کمی کے ممتحن اس کے پرچے کو دیکھ کر خوشی محسوس کرے گا۔خلاصہ یہ کہ گواصل چیز تو علم ہی ہے اور امتحان پاس کرنے کے لئے طالب علموں کے واسطے سب سے ضروری چیز علمی تیاری ہے لیکن وہ زائد باتیں جن سے امتحان پاس کرنے اور اچھے نمبر حاصل کرنے میں مددملتی ہے۔اور ان سے ممتحن کی طبیعت پر اچھا اثر ڈالا جا سکتا ہے۔انہیں بھی ضرور مدنظر رکھنا چاہئے۔