مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 544 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 544

مضامین بشیر جلد چهارم 544 وغیرہ میں پائے جاتے ہیں ) (8) ہر ا کثریت والی قوم کے لیڈر ہر صوبہ کی مجلس قانون ساز میں صاف اور غیر مشکوک الفاظ میں یہ اعلان کریں کہ وہ اپنے صوبہ کی اقلیتوں کے ساتھ نہ صرف پورے پورے انصاف بلکہ دلی ہمدردی اور شفقت کا سلوک کریں گے۔(9) کوئی ایسا قانون جس کا کسی قوم کے خلاف مخصوص اور امتیازی اثر پڑتا ہو۔اس وقت تک نافد نہ کیا جائے جب تک کہ اس قوم کے نمائندوں کی اکثریت اس کے حق میں نہ ہو۔اس بات کا فیصلہ کہ کسی قانون کا کسی قوم کے خلاف مخصوص اور امتیازی اثر پڑتا ہے یا نہیں ، گورنر کے ہاتھ میں ہو اور گورنر کے فیصلہ کے خلاف ہر پارٹی کو فیڈرل کورٹ میں جانے کا حق ہو۔10) اوپر کا نظام جو صرف عارضی حیثیت رکھتا ہے اس وقت تک قائم رہے جب تک کہ ہندوستان کے مستقبل کے متعلق کوئی مستقل اور مسلمہ فریقین کا سمجھوتہ نہ ہو جائے مگر یہ ضروری ہوگا کہ یہ عارضی انتظام سارے صوبوں میں بیک وقت جاری کیا جائے۔اوپر کی تجاویز صرف ذاتی حیثیت میں پیش کی جارہی ہیں۔انہیں کسی قوم یا پارٹی کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔ان کی غرض و غایت صرف اس قدر ہے کہ مستقل فیصلہ سے قبل عارضی طور پر ملک کی فضا میں اصلاح پیدا کی جائے۔گوا تفاق رائے کے ساتھ ان میں سے بعض تجاویز مستقل سمجھوتہ میں بھی شامل کی جاسکتی ہیں۔بالآخر قارئین کرام کو یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ خدا کی طرف سے دنیا میں دو قانون جاری ہیں۔ایک مادی اور دوسرے روحانی۔پس جملہ اقوام کو چاہئے کہ اس نازک وقت میں مصالحت کے مادی اسباب کو اختیار کرنے کے علاوہ روحانی اسباب یعنی دعا اور صدقہ و خیرات سے بھی کام لیں کیونکہ تکلیف کے اوقات میں دل سے نکلی ہوئی دعا کو وہ طاقت حاصل ہوتی ہے جو زبر دست سے زبر دست مادی اسباب کو بھی حاصل نہیں ہوتی۔وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِي الْعَظِيمِ - روزنامه الفضل قادیان 21 اپریل 1947 ء )